خصوصی رپورٹ
تہاڑ جیل کی بلند و بالا دیواروں کے پیچھے قید کشمیری رہنما یاسین ملک نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جس نے ایک مرتبہ پھر کشمیر کے تنازعے، کشمیری قیادت اور بھارتی عدالتی نظام پر بحث چھیڑ دی ہے۔
جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (JKLF) کے چیئرمین یاسین ملک نے 25 صفحات پر مشتمل اپنے تازہ تحریری بیان میں سرلا بھٹ قتل کیس میں اپنے خلاف مقدمہ مزید لڑنے سے انکار کرتے ہوئے عدالت سے کہا ہے کہ اگر ریاست انہیں مجرم سمجھتی ہے تو انہیں سزائے موت دے دی جائے۔
تاہم اہم بات یہ ہے کہ یاسین ملک نے اپنے بیان میں سرلا بھٹ کے قتل میں براہِ راست ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ مقدمہ نہ لڑنے کا فیصلہ جرم قبول کرنے کے مترادف نہیں۔
’میں مزید مقدمہ نہیں لڑوں گا‘
یاسین ملک اس وقت تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ انہیں 2022 میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے ایک مقدمے میں عمر قید سنائی گئی تھی، جبکہ بھارتی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی پہلے ہی ان کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
تازہ بیان میں یاسین ملک نے مقدمے کا دفاع جاری رکھنے کے بجائے اپنی قسمت عدالت پر چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سرلا بھٹ قتل کیس کی کئی دہائیوں پرانی تحقیقات دوبارہ فعال کی گئی ہیں اور بھارتی حکام کی جانب سے اس مقدمے کو دوبارہ عدالت میں لایا گیا ہے۔
مشعال ملک کو بھی ایک فیصلے سے آزاد کر دیا
یاسین ملک کے تازہ بیان کا سب سے زیادہ جذباتی حصہ ان کی اہلیہ مشعال ملک اور بیٹی رضیہ سلطانہ کے نام پیغام ہے۔
یاسین ملک نے اپنی پاکستانی اہلیہ مشعال ملک کو ازدواجی رشتے سے آزاد کرنے کا فیصلہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ مشعال ان کی طویل قید، غیر یقینی مستقبل اور ممکنہ موت کا بوجھ اپنی پوری زندگی اٹھاتی رہیں۔
اطلاعات کے مطابق یاسین ملک نے لکھا کہ گزشتہ تقریباً آٹھ برس سے انہیں اپنی اہلیہ کی آواز سننے، فون پر بات کرنے یا ویڈیو کال کے ذریعے خاندان سے رابطے کا موقع نہیں ملا۔ انہوں نے اس فیصلے کو انتہائی تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے خواہش ظاہر کی کہ مشعال امید اور وقار کے ساتھ اپنی زندگی کا نیا باب شروع کریں۔
یہ فیصلہ اس شخص کی ذاتی زندگی کے ایک ایسے پہلو کو سامنے لاتا ہے جو کئی برس سے کشمیر کی سیاست، جیل، مقدمات اور جدوجہد کے شور میں کہیں دب گیا تھا۔
ایک طرف یاسین ملک اپنی سیاسی جدوجہد اور کشمیر کے مستقبل کے سوال پر قائم رہنے کا اعلان کرتے رہے، دوسری طرف ان کا خاندان ان کی طویل قید کی قیمت ادا کرتا رہا۔
کمسن بیٹی کے نام باپ کا آخری پیغام؟
یاسین ملک نے اپنی کمسن بیٹی رضیہ سلطانہ کو بھی مخاطب کیا۔
اپنی بیٹی کے لیے ان کے پیغام میں ایک باپ کی طویل جدائی، بے بسی اور مستقبل کی فکر نمایاں ہے۔ انہوں نے بیٹی سے اپنی والدہ اور اپنی دادی، یعنی یاسین ملک کی والدہ، کا خیال رکھنے کی تلقین کی۔
انہوں نے بیٹی سے کہا کہ وہ اپنی دادی سے روزانہ کم از کم پانچ منٹ بات کیا کرے تاکہ اس مشکل وقت میں خاندان کے درمیان تعلق قائم رہے۔
یہ چند الفاظ اس پوری داستان کو محض ایک قانونی مقدمے سے نکال کر ایک خاندان کے ذاتی المیے میں تبدیل کر دیتے ہیں۔
ایک باپ اپنی بیٹی کی زندگی کے اہم ترین برسوں سے دور ہے۔
ایک شوہر اپنی اہلیہ کو اس غیر یقینی مستقبل سے آزاد کرنا چاہتا ہے جس میں وہ خود قید ہے۔
اور ایک سیاسی رہنما اپنی قسمت کا فیصلہ عدالت کے ہاتھ میں دیتے ہوئے بھی اپنے سیاسی مؤقف کو اپنے انداز میں زندہ رکھنا چاہتا ہے۔
یاسین ملک: مزاحمت سے مذاکرات تک
یاسین ملک کی سیاسی زندگی کشمیر کی گزشتہ کئی دہائیوں کی تاریخ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔
وہ نوجوانی میں مسلح مزاحمت کا حصہ بنے، لیکن 1994 میں انہوں نے مسلح جدوجہد سے علیحدگی اختیار کرکے سیاسی اور پُرامن ذرائع سے مسئلہ کشمیر کے حل کی بات شروع کی۔
ان کے حامی انہیں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور آزادی کی جدوجہد کی ایک نمایاں آواز قرار دیتے ہیں، جبکہ بھارتی حکومت ان پر دہشت گردی، تشدد اور دیگر سنگین الزامات عائد کرتی ہے۔
یہی تضاد یاسین ملک کی شخصیت کو کشمیر کے پیچیدہ سیاسی تنازعے میں ایک متنازع مگر نمایاں کردار بناتا ہے۔
سوال صرف یاسین ملک کا نہیں
یاسین ملک کا تازہ فیصلہ ایک فرد کے مقدمے سے کہیں بڑا سوال اٹھاتا ہے۔
کشمیر کے مسئلے کو کیا صرف عدالتوں، گرفتاریوں اور سزاؤں کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے؟
یا اس تنازعے کے سیاسی پہلو کو بھی تسلیم کرتے ہوئے ایسا راستہ تلاش کرنا ہوگا جس میں کشمیری عوام کی سیاسی خواہشات اور حقِ خودارادیت کو جگہ ملے؟
یاسین ملک کے حامیوں کے نزدیک ان کی قید کشمیر کی سیاسی آواز کو دبانے کی کوشش ہے، جبکہ بھارتی ریاست کے نزدیک یہ ایک قانونی اور فوجداری معاملہ ہے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک شخص کو قید کیا جا سکتا ہے، ایک آواز کو خاموش کیا جا سکتا ہے، لیکن کسی سیاسی تنازعے کو صرف سزاؤں کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
تہاڑ جیل سے اٹھنے والی آواز
یاسین ملک کا تازہ بیان ایک عجیب انسانی اور سیاسی کیفیت کی تصویر پیش کرتا ہے۔
وہ عدالت سے اپنے لیے موت مانگ رہے ہیں، مگر اپنی بیوی کے لیے زندگی کی آزادی چاہتے ہیں۔
وہ اپنی بیٹی سے دور ہیں، مگر اس کے مستقبل اور اپنی بوڑھی والدہ کی تنہائی کے بارے میں فکر مند ہیں۔
اور وہ خود قید میں ہیں، مگر کشمیر کے سیاسی مستقبل سے متعلق اپنے مؤقف کو اپنے انداز میں دنیا کے سامنے رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یاسین ملک کا معاملہ اب صرف ایک قیدی کا مقدمہ نہیں رہا؛ یہ اس سوال کی نئی صورت ہے کہ کشمیر کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ طاقت سے ہوگا، عدالتوں سے ہوگا، یا خود کشمیری عوام کی رائے سے؟
یہ سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ تہاڑ جیل سے لکھا گیا ایک 25 صفحات کا بیان کشمیر کی سیاست سے کہیں آگے، ایک خاندان کے دکھ اور ایک پوری قوم کے سیاسی سوال کو ایک ہی جگہ لا کھڑا کرتا ہے۔
#یاسین_ملک #مشعال_ملک #رضیہ_سلطانہ #کشمیر #کشمیرکیآزادی #حق_خودارادیت #YasinMalik #MushaalMalik #RaziyaSultana #Kashmir #KashmirFreedom #KashmirIssue #JKLF #TiharJail #Azadi #آزادی #تحریک_آزادی #کشمیری_عوام
