آزادی کرائم ڈیسک
مردان: مردان کے علاقے چمتار میں معمولی تلخ کلامی سے شروع ہونے والی مبینہ دشمنی نے صرف 24 گھنٹوں کے اندر دو نوجوانوں کی جان لے لی۔ پہلے 17 سالہ حماد خان کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا اور اگلے ہی روز اس کے بڑے بھائی عمران نے مبینہ طور پر اپنے بھائی کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ملزم مشعال کو ایس پی انویسٹی گیشن کے دفتر میں فائرنگ کرکے قتل کردیا۔
پولیس کے مطابق واقعے کی ابتدا تقریباً پانچ سے چھ روز قبل ہوئی، جب حماد خان کی مشعال اور طلحہ نامی نوجوانوں کے ساتھ کسی معاملے پر معمولی تکرار ہوئی۔ بظاہر معاملہ ختم ہوگیا تھا، تاہم پولیس کے مطابق مبینہ طور پر رنجش برقرار رہی اور چند روز بعد یہی تنازع ایک سنگین خونریزی میں تبدیل ہوگیا۔
پولیس کے مطابق حماد خان اپنے بھائی عمران اور دوست حیدر خان کے ہمراہ چمتار میں موجود تھا کہ مشعال اور طلحہ موٹر سائیکل پر وہاں پہنچے۔ پولیس کو دی گئی رپورٹ کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان دوبارہ تلخ کلامی اور ہاتھا پائی ہوئی۔
پولیس کے مطابق اس دوران طلحہ نے مبینہ طور پر آہنی مکے سے حیدر خان کے سر پر متعدد وار کیے، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگیا۔ اسی دوران مشعال نے مبینہ طور پر پستول نکال کر فائرنگ کردی۔ ایک گولی 17 سالہ حماد خان کو لگی اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا، جبکہ حیدر خان بھی شدید زخمی ہوگیا۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 کی ٹیم موقع پر پہنچی اور حماد خان کی لاش جبکہ زخمی حیدر خان کو ڈی ایچ کیو ہسپتال مردان منتقل کیا گیا۔
حماد خان کے بھائی عمران کی مدعیت میں پولیس نے مشعال اور طلحہ کے خلاف قتل اور اقدامِ قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی۔ مدعی کے مطابق واقعے کے وقت روشنی موجود تھی اور دونوں ملزمان کو واضح طور پر شناخت کیا گیا۔
تاہم واقعے کے اگلے ہی روز صورتحال نے ایک اور انتہائی خطرناک رخ اختیار کرلیا۔
پولیس کے مطابق حماد خان کے قتل کے مقدمے میں گرفتار مشعال کو ایس پی انویسٹی گیشن کے دفتر لایا گیا تھا جہاں حماد کے بڑے بھائی عمران نے مبینہ طور پر فائرنگ کردی۔ فائرنگ کے نتیجے میں مشعال بھی جاں بحق ہوگیا۔
اس طرح ایک نوجوان کے قتل کے صرف ایک دن بعد مبینہ طور پر انتقامی کارروائی میں دوسرے نوجوان کی جان بھی چلی گئی۔ پولیس کے مطابق عمران کو موقع پر گرفتار کرلیا گیا اور واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
واقعے کا ایک اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مقتول حماد کا بھائی اور مبینہ طور پر مشعال کو فائرنگ کرکے قتل کرنے والا عمران مردان ٹریفک پولیس کا اہلکار ہے۔ پولیس اہلکار کی جانب سے مبینہ طور پر قانون ہاتھ میں لیے جانے کے واقعے نے پولیس کے اندرونی احتساب اور زیرِ حراست ملزمان کی حفاظت سے متعلق بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
دوسری جانب مشعال کے لواحقین نے واقعے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اس کی لاش تھانہ صدر کے سامنے رکھ دی اور نوشہرہ روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ مشعال کو پولیس کی موجودگی میں قتل کیا گیا اور اسے تحفظ فراہم کرنے میں غفلت برتی گئی۔
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او مردان نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ پولیس کے مطابق ایس پی انویسٹی گیشن کے دفتر میں موجود تین پولیس اہلکاروں کو معطل کرکے گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ عمران سے مزید تفتیش کی جارہی ہے۔
مردان کا یہ واقعہ محض دو قتلوں کی داستان نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی اور نظامِ انصاف کے بارے میں ایک سنگین سوال بھی اٹھاتا ہے۔ ایک معمولی تنازع، جسے بروقت گفت و شنید یا قانونی طریقے سے ختم کیا جاسکتا تھا، مبینہ طور پر پہلے ایک 17 سالہ نوجوان کی موت کا سبب بنا اور پھر اگلے ہی روز ایک اور نوجوان کی زندگی ختم ہوگئی۔
اس واقعے میں دونوں جانب کے خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہوچکے ہیں، جبکہ ملزمان اور ان کے خلاف مقدمات کا فیصلہ اب عدالت کے ذریعے ہونا ہے۔ تاہم واقعے نے یہ بنیادی سوال ضرور سامنے رکھا ہے کہ اگر کسی شہری کو اپنے پیارے کے قتل کے بعد انصاف کے بجائے بدلہ لینے کا راستہ زیادہ فوری اور قابلِ عمل محسوس ہونے لگے تو قانون کی بالادستی کس طرح برقرار رہ سکتی ہے؟
قانون اور نظامِ انصاف میں خامیاں یا تاخیر اپنی جگہ، لیکن کسی فرد کو خود فیصلہ کرنے اور کسی دوسرے انسان کی جان لینے کا اختیار نہیں دے سکتیں۔
#MardanCrime #Mardan #CrimeStory #Chamtar #KhyberPakhtunkhwa #CrimeNews #LawAndOrder #RuleOfLaw #Justice #Police #MardanPolice #CrimePrevention #PakistanNews #BreakingNews #JusticeSystem
