اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مدر اینڈ چائلڈ اسپتال کے گائنی وارڈ میں بدھ کی صبح خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے، جبکہ ایک بچے کو ڈاکٹر نے بچا لیا۔

اسلام آباد انتظامیہ کے مطابق آگ اسپتال کی عمارت کی تیسری منزل پر واقع مدر اینڈ چائلڈ اسپتال کے وارڈ میں لگی۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور آگ بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیوں اور 4 ایمبولینسوں نے امدادی کارروائی میں حصہ لیا۔

انتظامیہ کے مطابق آگ پر فوری قابو پا لیا گیا اور متاثرہ بچوں کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ منتقل کیا گیا، تاہم 14 بچے بری طرح جھلسنے کے باعث جانبر نہ ہوسکے۔

پمز کی ترجمان ڈاکٹر انیزہ جلیل نے بتایا کہ حادثے کے وقت وارڈ میں 15 نومولود بچے موجود تھے، جن میں سے کم از کم ایک بچے کو ایک ڈاکٹر نے بچا لیا۔ ان کے مطابق جاں بحق بچوں میں سے 6 کی میتیں والدین کے حوالے کی جاچکی ہیں جبکہ باقی میتیں بھی ضروری کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کی جائیں گی۔

ایئرکنڈیشنر میں دھماکے سے آگ لگنے کا دعویٰ

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے جیو نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ وارڈ میں موجود نومولود بچے انکیوبیٹرز میں یا آکسیجن پر تھے۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ صبح تقریباً 6 بج کر 45 منٹ پر ایئرکنڈیشنر میں ہونے والا دھماکا بتائی گئی ہے، جبکہ وارڈ میں موجود آکسیجن ٹینکس کے باعث آگ مزید شدت اختیار کر گئی۔

تاہم واقعے کی حتمی وجہ اور ممکنہ غفلت کا تعین تحقیقات کے بعد ہی کیا جائے گا۔

والدین کا رقت آمیز احتجاج، حفاظتی انتظامات پر سوالات

حادثے کے بعد اسپتال کے باہر والدین اور لواحقین کی آہ و بکا نے ہر آنکھ نم کردی۔ ایک والد نے بتایا کہ اس کی صرف تین دن کی بیٹی آگ کی نذر ہوگئی، جبکہ ایک خاتون نے بتایا کہ آگ کے دوران دھوئیں سے ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی اور لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگ رہے تھے۔

بعض لواحقین نے اسپتال میں فائر سیفٹی انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے۔ ایک والد کے مطابق وارڈ کے تقریباً تمام دروازے بند تھے اور وہاں مناسب فائر سیفٹی موجود نہیں تھی۔

ایک زیر علاج مریضہ کے رشتہ دار نے یہ بھی بتایا کہ اسپتال کی عمارت میں مرمت اور تزئین و آرائش کا کام جاری تھا، جس کے دوران آگ لگنے کے بعد خواتین مریضوں اور حال ہی میں بچوں کو جنم دینے والی ماؤں کو سیڑھیوں کے ذریعے عمارت سے نکلنا پڑا۔

وزیراعظم کا نوٹس، وفاقی ہیلتھ سیکریٹری عہدے سے فارغ

وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا۔

وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت کی کہ حادثے کے اسباب کا مکمل جائزہ لیا جائے، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور غفلت ثابت ہونے کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے۔

بعد ازاں وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وفاقی ہیلتھ سیکریٹری محمد اسلم غوری کو معطل کرکے عہدے سے ہٹا دیا گیا جبکہ واقعے کی تحقیقات کے لیے سابق وفاقی سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کردی گئی۔

24 گھنٹے میں رپورٹ طلب

اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی جانب سے بھی ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس کی سربراہی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کریں گے۔

کمیٹی میں کیپیٹل ایمرجنسی سروسز، پولیس، ضلعی انتظامیہ، کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پمز اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے نمائندے شامل ہیں۔

کمیٹی کو آگ لگنے کی اصل وجہ معلوم کرنے، اسپتال میں موجود فائر سیفٹی انتظامات کی صورتحال کا جائزہ لینے اور امدادی و فائر فائٹنگ کارروائی کے ردعمل اور مؤثریت کا تعین کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ کمیٹی کو 24 گھنٹے کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

صدر، سیاسی رہنماؤں اور پی ایم اے کا اظہارِ افسوس

صدر آصف علی زرداری، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، پہلی خاتون آصفہ بھٹو زرداری، مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق سمیت مختلف سیاسی رہنماؤں نے نومولود بچوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

برطانوی ہائی کمیشن اور فرانسیسی سفارتخانے نے بھی جاں بحق بچوں کے خاندانوں سے تعزیت کی۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد میں غفلت کے ذمہ دار حکام کے خلاف کارروائی کی جائے اور ملک بھر کے سرکاری و نجی اسپتالوں میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی انفراسٹرکچر اور حفاظتی نظام کا ازسرنو جائزہ لیا جائے

پمز اسلام آباد کا سب سے بڑا سرکاری اسپتال ہے اور 1985 میں قائم کیا گیا تھا۔ نومولود بچوں کی ہلاکت کے اس المناک واقعے نے ایک مرتبہ پھر اسپتالوں میں فائر سیفٹی، ہنگامی انخلا کے نظام، برقی و طبی آلات کی دیکھ بھال اور انتظامی نگرانی کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ سانحہ محض ایک حادثہ تھا یا حفاظتی انتظامات میں ممکنہ غفلت کا نتیجہ؟ اس کا جواب حکومتی اور انتظامی تحقیقات کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگا۔

#PIMS #PIMSFire #Islamabad #NewbornBabies #HospitalFire #Pakistan #BreakingNews #IslamabadNews #PIMSTragedy #FireSafety #HospitalSafety #Investigation #Justice #PakistanNews