نیوز ڈیسک
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے بڑھتے ہوئے کرنسی نوٹوں کی طباعت کے اخراجات کے پیش نظر 10 روپے کے نوٹ کو ختم کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسٹیٹ بینک کی جانب سے کم مالیت کے کرنسی نوٹوں کی افادیت، ان کی طباعت پر آنے والی لاگت اور معیشت میں ان کے استعمال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ بڑھتے ہوئے کاغذ، سیاہی اور دیگر پرنٹنگ اخراجات کے باعث 10 روپے کے نوٹ کو مرحلہ وار گردش سے نکالنے کی تجویز زیر غور ہے۔
اگر اس تجویز کو حتمی منظوری مل جاتی ہے تو 10 روپے کا نوٹ بتدریج مارکیٹ سے واپس لیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ اور اس پر عمل درآمد کا طریقہ کار اسٹیٹ بینک کی جانب سے طے کیا جائے گا۔
دوسری جانب اسٹیٹ بینک کی جانب سے 5 ہزار روپے کے کرنسی نوٹ کے نئے ڈیزائن پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔ نئے ڈیزائن کا مقصد کرنسی نوٹوں کی سکیورٹی خصوصیات کو مزید بہتر بنانا اور جعلی نوٹوں کی روک تھام کے لیے جدید حفاظتی اقدامات شامل کرنا ہے۔
نئے ڈیزائن میں جدید سکیورٹی فیچرز شامل کیے جانے کا امکان ہے تاکہ عام شہریوں، بینکنگ نظام اور کاروباری اداروں کے لیے جعلی کرنسی کی شناخت زیادہ آسان بنائی جا سکے۔
ماہرین کے مطابق دنیا کے کئی ممالک میں کم مالیت کے ایسے کرنسی نوٹوں کو ختم یا سکوں سے تبدیل کیا گیا ہے جن کی تیاری اور انتظامی لاگت ان کی قدر کے مقابلے میں زیادہ ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی مہنگائی، پرنٹنگ لاگت اور نقد رقم کے استعمال میں تبدیلی کے تناظر میں کم مالیت کے نوٹوں کے مستقبل پر بحث جاری ہے۔
تاہم 10 روپے کے نوٹ کو ختم کرنے کا فیصلہ ہونے کی صورت میں اس کے عام شہریوں، چھوٹے کاروبار، پبلک ٹرانسپورٹ اور روزمرہ کی چھوٹی لین دین پر ممکنہ اثرات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
اہم بات یہ ہے کہ 10 روپے کے نوٹ کو ختم کرنے کی تجویز فی الحال زیر غور ہے؛ اسے فوری طور پر ختم کرنے کا حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔
#StateBankOfPakistan #SBP #Rs10Note #Currency #PakistanEconomy #Rs5000Note #Pakistan
