آزادی ڈیسک
کھٹمنڈو: نیپال میں تبت کی سرحد کے قریب آنے والے شدید اور اچانک سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 95 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ 28 پولیس اہلکار لاپتا ہیں۔
نیپالی پولیس کے ترجمان ابی نارائن کافلے کے مطابق بدھ کو اب تک 95 ہلاکتوں کی تصدیق ہوچکی ہے، تاہم متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری رہنے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
سیلابی ریلے کے ساتھ آنے والے کیچڑ اور ملبے نے دریائے کنارے واقع متعدد عمارتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جبکہ کئی علاقوں میں مکانات اور دیگر تنصیبات زیرِ آب آگئیں۔ متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق آفت کے کئی گھنٹے بعد بھی سینکڑوں سیاحوں سے رابطہ نہیں ہوسکا، جس کے باعث ان کی سلامتی کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں۔
چین کی سرحد سے ملحقہ علاقے میں بھی سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے بڑے پیمانے پر نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق تبت میں نیپال اور چین کی سرحد کے قریب واقع ایک تجارتی مرکز میں مٹی کے تودے گرنے سے "بڑے پیمانے پر جانی نقصان" ہوا، جس کے بعد چینی صدر شی جن پنگ نے بھرپور امدادی کارروائیوں کی ہدایت کی ہے۔
متاثرہ علاقے کے ایک شہری راجو بھادل نے بتایا کہ اسے صبح اپنے رشتہ دار کی فون کال موصول ہوئی جس میں خاندان کے گھر کے مکمل طور پر سیلابی ریلے میں بہہ جانے کی اطلاع دی گئی۔ خاندان کے تین افراد کو بچا لیا گیا تاہم ایک شخص تاحال لاپتا ہے۔
نیپال کے وزیراعظم بالیندر شاہ نے قوم سے متحد رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت متاثرین کی ریسکیو، علاج، خوراک اور رہائش کی ذمہ داری پوری کرے گی۔
وزیراعظم نے متاثرین کو یقین دلایا کہ حکومت مشکل کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے اور تمام دستیاب وسائل امدادی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
نیپالی فوج نے متاثرہ علاقوں میں ہیلی کاپٹرز اور ڈیزاسٹر ریسپانس اہلکار تعینات کردیئے ہیں تاکہ دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں پھنسے افراد تک رسائی حاصل کی جاسکے۔
دریں اثنا نیپال الیکٹریسٹی اتھارٹی کے مطابق سیلاب سے تقریباً 430 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے، جس میں ہائیڈرو پاور اور سولر منصوبے بھی شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور متاثرہ علاقوں میں نقصان کا مکمل تخمینہ لگانے کا عمل بھی شروع کردیا گیا ہے۔
#NepalFloods #Nepal #Floods #TibetBorder #NaturalDisaster #FlashFlood #NepalFlood #FloodDisaster #RescueOperation #ClimateDisaster #SouthAsia #BreakingNews #WorldNews #FloodVictims #ACPNews
