آزادی خصوصی تجزیہ

مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ دنوں ایک ایسا سفارتی اور دفاعی منظرنامہ تشکیل پا رہا ہے جو خطے کے روایتی طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں طے پانے والا سہ فریقی مشترکہ دفاعی معاہدہ اب محض تین ممالک کے درمیان دفاعی تعاون تک محدود دکھائی نہیں دیتا، بلکہ اسے ایک وسیع تر علاقائی سکیورٹی فریم ورک کی ابتدائی شکل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

برطانوی نشریاتی و تجزیاتی پلیٹ فارم Middle East Monitor میں شائع ہونے والے تجزیے کے مطابق یہ ممکنہ اتحاد مستقبل میں ایسے علاقائی سکیورٹی نظام کی بنیاد بن سکتا ہے جس کے لیے واشنگٹن کی منظوری یا سرپرستی لازمی نہ ہو۔ تاہم یہ بات ابھی قبل از وقت ہوگی کہ اسے مکمل طور پر ایک نئے ’’مشرقِ وسطیٰ نیٹو‘‘ سے تعبیر کیا جائے۔

مکہ سے شروع ہونے والا نیا باب

مکہ معاہدے کی اہمیت صرف اس کے دفاعی پہلو میں نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور علامتی پس منظر میں بھی ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان تین ایسے ممالک ہیں جو اپنی جغرافیائی، عسکری اور سیاسی اہمیت کے باعث مسلم دنیا میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

معاہدے میں کسی مخصوص دشمن کا نام شامل نہیں کیا گیا اور اسے کسی ایک ملک کے خلاف اتحاد کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود اس کی تشکیل ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں غزہ، ایران، اسرائیل اور امریکی پالیسی کے حوالے سے شدید کشیدگی موجود ہے۔

Middle East Monitor کے مطابق معاہدے کے بانی ممالک نے مستقبل میں دیگر ممالک کے لیے بھی اس فریم ورک کو کھلا رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ مصر کو ممکنہ شریک کے طور پر زیرِ بحث لایا جا رہا ہے جبکہ شام نے بھی اس معاہدے میں شمولیت یا اس کے ساتھ تعاون کے امکانات کا جائزہ لینے کا اشارہ دیا

ایران: سب سے اہم ممکنہ توسیع

اس پورے منظرنامے میں ایران کا معاملہ سب سے زیادہ اہم اور حساس ہے۔

Middle East Monitor کے مطابق گزشتہ ہفتے ایک ایرانی پارلیمانی عہدیدار نے لبنانی ٹی وی چینل کو بتایا کہ تہران کو مکہ معاہدے میں شمولیت کی دعوت موصول ہوئی ہے۔ تاہم سعودی عرب، ترکیہ یا پاکستان کی جانب سے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ ایرانی وزارت خارجہ نے بھی اس حوالے سے واضح تصدیق یا تردید نہیں کی۔

اس لیے ایران کی ممکنہ شمولیت کو فی الحال ایک غیرمصدقہ پیش رفت کے طور پر دیکھنا چاہیے، نہ کہ طے شدہ حقیقت کے طور پر۔ 

اسی تناظر میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا 24 اگست کو تہران کا دورہ بھی غیرمعمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ تاہم Middle East Monitor نے واضح کیا ہے کہ اس دورے کو براہِ راست مکہ معاہدے کی ایرانی رکنیت کی دعوت سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔ پاکستان اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات میں بھی ایک اہم رابطہ کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ 

پاکستان کا منفرد کردار

مکہ معاہدے میں پاکستان کی موجودگی اس پورے منصوبے کو غیرمعمولی جغرافیائی وسعت دیتی ہے۔

پاکستان ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ دفاعی اور اقتصادی تعلقات رکھتا ہے، دوسری جانب ترکیہ کے ساتھ اس کے بڑھتے ہوئے دفاعی اور تزویراتی روابط ہیں۔ اس کے ساتھ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے، جبکہ افغانستان اور وسطی ایشیا بھی پاکستان کے جغرافیائی دائرۂ اثر سے منسلک ہیں۔

یوں پاکستان ایسے وقت میں ایک منفرد پل کا کردار ادا کر سکتا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کے مختلف دھڑے ایک دوسرے سے براہِ راست بات چیت کے لیے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں۔

Middle East Monitor کے مطابق پاکستان نے ایران کو مکہ معاہدے کے مندرجات سے آگاہ کرنے کے لیے 12 اگست کو وزیر داخلہ محسن نقوی کو تہران بھیجا تھا، جہاں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو معاہدے کے بارے میں بریف کیا گیا 

اصل امتحان: فلسطین

اگر مکہ معاہدہ مستقبل میں مزید ممالک کو اپنے ساتھ جوڑتا ہے تو اس کا سب سے بڑا امتحان فلسطین کا مسئلہ ہوگا۔

ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان پہلے ہی مسلم دنیا کے درمیان زیادہ مؤثر تعاون اور غزہ کی صورتحال کے تناظر میں علاقائی اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں۔ مکہ میں معاہدے پر دستخط کا مقام بھی محض ایک جغرافیائی انتخاب نہیں بلکہ ایک مضبوط سیاسی اور مذہبی علامت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

اگر ایران، مصر یا شام جیسے ممالک کسی مرحلے پر اس فریم ورک کا حصہ بنتے ہیں تو یہ محض دفاعی تعاون کا معاہدہ نہیں رہے گا۔ اس کے نتیجے میں مسلم اکثریتی ممالک کے درمیان ایک ایسا اجتماعی سیاسی وزن پیدا ہوسکتا ہے جو فلسطین کے معاملے پر اسرائیل، امریکہ اور خطے کی دیگر طاقتوں کے ساتھ مذاکرات میں نئی پوزیشن اختیار کرے۔

تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ ایسا اتحاد لازماً اسرائیل کے خلاف فوجی محاذ بن جائے گا۔ اس کے لیے رکن ممالک کی سیاسی ترجیحات، دفاعی ذمہ داریوں اور معاہدے کی عملی ساخت ابھی واضح ہونا باقی ہے۔

کیا یہ ’’نیا نیٹو‘‘ بن سکتا ہے؟

مکہ معاہدے کے بارے میں سب سے زیادہ زیرِ بحث سوال یہی ہے کہ کیا یہ مستقبل میں مسلم دنیا کا کوئی نیا اجتماعی دفاعی اتحاد بن سکتا ہے؟

اگر صرف سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان تک محدود رہے تو اسے ایک مضبوط سہ فریقی دفاعی شراکت داری کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ لیکن اگر مصر، شام اور بالخصوص ایران سمیت مزید ممالک اس میں شامل ہوتے ہیں تو اس کی جغرافیائی اور سیاسی اہمیت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔

اس سے بھی آگے اگر جنوب مشرقی ایشیا، وسطی ایشیا اور افریقہ کے مسلم اکثریتی ممالک کسی وسیع تر سکیورٹی فریم ورک سے منسلک ہوتے ہیں تو معاملہ محض مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مسلم دنیا کے ایک وسیع تزویراتی نیٹ ورک کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔

تاہم یہ منظرنامہ ابھی ایک امکان ہے، حقیقت نہیں۔ خود Middle East Monitor کے تجزیے میں بھی اس وسیع تر تصور کو مستقبل کا ممکنہ منظرنامہ قرار دیا گیا ہے، نہ کہ موجودہ حقیقت۔ 

واشنگٹن کے لیے نیا چیلنج؟

دوسری جنگِ عظیم کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی بڑی حد تک امریکی فوجی موجودگی، اتحادی نظام اور واشنگٹن کے ساتھ دوطرفہ دفاعی تعلقات کے گرد گھومتی رہی ہے۔

مکہ معاہدے کا ممکنہ نیا پہلو یہ ہے کہ خطے کے اہم مسلم ممالک اپنی سکیورٹی ترجیحات کو زیادہ حد تک خود طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس کا مطلب لازماً امریکہ سے دوری نہیں۔ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان تینوں کے واشنگٹن کے ساتھ اپنے اپنے مفادات اور تعلقات ہیں۔ لیکن اگر علاقائی ممالک ایک ایسا مشترکہ سکیورٹی ڈھانچہ بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جو بیرونی طاقت کی براہِ راست منظوری کا محتاج نہ ہو تو مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے روایتی توازن پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

اسی لیے مکہ معاہدے کی اصل اہمیت اس کے موجودہ اراکین سے زیادہ اس سوال میں پوشیدہ ہے کہ اس کے بعد کون شامل ہوتا ہے اور یہ اتحاد عملی طور پر کیا کردار اختیار کرتا ہے۔

نتیجہ: ابھی آغاز ہے، انجام نہیں

مکہ معاہدہ ابھی ایک ابتدائی مرحلہ ہے۔ اسے فوری طور پر ایک مکمل علاقائی فوجی اتحاد قرار دینا بھی درست نہیں اور اسے محض رسمی سفارتی معاہدہ سمجھنا بھی شاید درست نہ ہو۔

اس معاہدے کی اصل آزمائش اس کی توسیع، مشترکہ دفاعی میکانزم، رکن ممالک کے باہمی اعتماد اور فلسطین سمیت خطے کے بڑے تنازعات پر اس کے عملی کردار سے ہوگی۔

اگر سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ اس فریم ورک کو مستحکم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں اور مصر، شام یا ایران جیسے ممالک کسی مرحلے پر اس کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں تو مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے علاقائی سکیورٹی نظام کی بنیاد پڑ سکتی ہے۔

اور اگر ایسا ہوا تو اس کی سب سے بڑی تبدیلی یہ ہوگی کہ خطے کے اہم ممالک اپنی سلامتی اور تزویراتی مستقبل کے فیصلوں میں بیرونی طاقتوں پر انحصار کم کرنے کی کوشش کریں گے۔

مکہ سے شروع ہونے والا یہ سفر ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، مگر اس نے ایک اہم سوال ضرور کھڑا کردیا ہے: کیا آنے والے برسوں میں مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کا فیصلہ واشنگٹن میں ہوگا، یا خود خطے کے دارالحکومتوں میں؟

ماخذ: Middle East Monitor — Mansoor Qaisar، 24 اگست 2026