سید کوثر نقوی  ایبٹ آباد:
ایبٹ آباد میں ڈسٹرکٹ بار کے احاطے میں زیرِ تعمیر واٹر فلٹریشن پلانٹ کو منہدم کرنے  کے معاملے پر وکلا اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان شروع ہونے والا تنازع شدت اختیار کرگیا، جس کے نتیجے میں دونوں فریق آمنے سامنے آگئے اور نئے تحصیل بلڈنگ کے باہر پتھراؤ کے واقعے میں متعدد وکلا اور سرکاری ملازمین کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

تنازع اس وقت شروع ہوا جب اسسٹنٹ کمشنر ایبٹ آباد افراسیاب زبیر ہندال کی نگرانی میں ٹی ایم اے عملے نے ڈسٹرکٹ بار کے احاطے میں زیرِ تعمیر فلٹریشن پلانٹ کے خلاف کارروائی کی۔ وکلا کے مطابق پلانٹ کی تعمیر کا مقصد عدالتوں میں آنے والے شہریوں کو صاف پینے کا پانی فراہم کرنا تھا اور اس منصوبے کے لیے تقریباً 20 لاکھ روپے کی گرانٹ مختص کی گئی تھی۔

وکلا کا مؤقف ہے کہ فلٹریشن پلانٹ کی تعمیر تقریباً ڈیڑھ ماہ سے جاری تھی اور یہ منصوبہ صاف پانی کی فراہمی کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ وکلا نے انتظامیہ کی جانب سے تعمیراتی کام میں مداخلت اور پلانٹ کے حصے کو منہدم کرنے کی کارروائی پر شدید احتجاج کیا۔

ڈسٹرکٹ بار کے صدر عمران یونس تنولی، جنرل سیکرٹری اسد خان جدون اور خیبر پختونخوا بار کونسل کے رکن محمد علی خان جدون سمیت دیگر وکلا نے احتجاج کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر کے خلاف کارروائی اور انہیں ضلع بدر کرنے کا مطالبہ کیا۔ وکلا نے الزام عائد کیا کہ کارروائی کے دوران عدالتی عملے کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی اور تشدد کیا گیا، تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب وکلا اور ضلعی انتظامیہ کے ملازمین کے درمیان نئے تحصیل بلڈنگ کے مرکزی دروازے کے قریب مبینہ طور پر شدید پتھراؤ ہوا۔ واقعے میں بعض وکلا اور سرکاری ملازمین کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ڈسٹرکٹ بار کے سیکرٹری اسد خان جدون کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع سامنے آئی ہے۔

واقعے کے بعد وکلا نے فوارہ چوک پر احتجاج کیا جس کے نتیجے میں  شاہراہِ قراقرم پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔ ڈسٹرکٹ بار کی جانب سے عدالتوں کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا، جبکہ وکلا نے اسسٹنٹ کمشنر کے فوری تبادلے  کا مطالبہ بھی کیا۔

دوسری جانب سرکاری ملازمین نے بھی انتظامیہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے دفاتر بند کرکے احتجاج کیا اور اسسٹنٹ کمشنر کے حق میں ریلی نکالی۔ اس طرح معاملہ محض فلٹریشن پلانٹ کے تنازع تک محدود رہنے کے بجائے وکلا اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان وسیع تر کشیدگی میں تبدیل ہوگیا۔

صورتحال کو معمول پر لانے اور واقعے کے حقائق کا جائزہ لینے کے لیے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عابد سرور کی سربراہی میں ایک 11 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس میں ڈسٹرکٹ بار، ہائی کورٹ بار، خیبر پختونخوا بار کونسل اور سینئر وکلا کے نمائندے شامل ہیں۔ کمیٹی نے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس بھی کیا ہے۔

دوسری جانب  پولیس کو وکلا اور ضلعی انتظامیہ دونوں جانب سے درخواستیں موصول ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی احتجاجی مقامات پر تعینات کی گئی۔ مقامی سطح پر بعض شخصیات نے دونوں فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی ختم کرکے معاملہ مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔

صورتحال کے باعث عدالتی اور انتظامی امور بھی متاثر ہوئے ہیں اور عدالتوں کے بائیکاٹ کے باعث سائلین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جبکہ سرکاری دفاتر کی بندش اور احتجاج کے باعث معمول کے انتظامی امور بھی متاثر ہوئے اور مسائل کے حل کیلئے آنے والے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

فلٹریشن پلانٹ کے معاملے پر پیدا ہونے والے اس تنازع نے ایبٹ آباد میں وکلا اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان اختیارات، عدالتی احکامات اور عوامی سہولت کے منصوبوں سے متعلق ایک اہم بحث کو جنم دیا ہے۔ اب تمام نظریں تحقیقاتی کمیٹی کی کارروائی اور دونوں فریقوں کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور ان کے نتائج  پر مرکوز ہیں۔
 

#Abbottabad #AbbottabadNews #Lawyers #DistrictAdministration #FiltrationPlant #WaterFiltrationPlant #AbbottabadBar #DistrictBar #KhyberPakhtunkhwa #Hazara #LawyersProtest #Administration #BreakingNews #ACPNews #AbbottabadUpdates