آزادی نیوز
اسلام آباد/گلگت بلتستان
پاکستان کی کوہ پیمائی برادری ایک اور المناک حادثے سے دوچار ہوگئی، جب پاکستانی ڈاکٹر، کوہ پیما اور ٹریول ولاگر عاصمہ مشتاق 7,027 میٹر بلند اسپینٹک چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کے دوران شدید طبی ہنگامی صورتحال کا شکار ہوکر جانبر نہ ہوسکیں۔ ان کی موت اس وقت ہوئی جب وہ چوٹی سے اترتے ہوئے تقریباً 6,400 میٹر کی بلندی پر تھیں۔
عاصمہ مشتاق نے حالیہ کوہ پیمائی مہم کے دوران قراقرم کے معروف پہاڑ اسپینٹک (Spantik) کو کامیابی سے سر کیا تھا۔ اسپینٹک کو گولڈن پیک (Golden Peak) بھی کہا جاتا ہے اور یہ پاکستان کے قراقرم پہاڑی سلسلے میں واقع 7,027 میٹر بلند چوٹی ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق عاصمہ نے اپنے گائیڈ اکبر علی کے ہمراہ کامیابی سے چوٹی تک رسائی حاصل کی اور اس وقت ان کی طبیعت بہتر تھی۔ تاہم واپسی کے دوران حالات اچانک تبدیل ہوگئے۔
الپائن کلب آف پاکستان کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ چوٹی سے واپسی کے دوران تقریباً 6,400 میٹر کی بلندی پر عاصمہ مشتاق کو اچانک سنگین طبی مسئلہ پیش آیا۔ ان کے گائیڈز نے فوری طور پر طبی امداد فراہم کی اور انہیں ہنگامی طور پر نیچے منتقل کرنے کی کوشش کی، تاہم انتہائی بلندی، کم آکسیجن اور دشوار گزار پہاڑی ماحول کے باعث ان کی جان نہ بچائی جاسکی۔
مہم کی انتظامیہ Karakoram Calling Treks کی جانب سے بھی بتایا گیا کہ عاصمہ مشتاق چوٹی پر پہنچنے کے وقت بہتر حالت میں تھیں، تاہم واپسی کے دوران انہیں شدید نوعیت کی طبی مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹس کے مطابق گائیڈ اکبر علی کے علاوہ ایک اور گائیڈ محمد امین نے بھی ان کی مدد کی اور مشکل حالات میں انہیں بچانے کی کوششیں جاری رکھیں۔
ڈاکٹر بھی، کوہ پیما بھی
عاصمہ مشتاق کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ وہ صرف کوہ پیمائی اور سفر کی شوقین ہی نہیں بلکہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر بھی تھیں۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق ان کا تعلق لاہور سے تھا اور وہ برطانیہ میں ڈاکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی تھیں، جہاں ان کا کام زچہ و بچہ کی نگہداشت سے متعلق تھا۔ کوہ پیمائی اور سفر سے ان کی گہری دلچسپی تھی اور وہ اپنے سفری تجربات اور قدرتی مناظر کو ٹریول ولاگنگ اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی ریکارڈ کرتی تھیں۔
رپورٹس کے مطابق عاصمہ مشتاق 7 فروری 1992 کو پیدا ہوئی تھیں اور کم عمری ہی سے سفر، قدرتی مناظر اور مہم جوئی سے خاص دلچسپی رکھتی تھیں۔ ان کی سوشل میڈیا سرگرمیوں سے بھی پہاڑوں، قدرتی حسن اور مختلف مقامات کی سیر کے ساتھ ان کی وابستگی ظاہر ہوتی ہے۔
ان کے لیے اسپینٹک مہم کوئی پہلا کوہ پیمائی تجربہ نہیں تھی۔ دستیاب معلومات کے مطابق وہ اس سے قبل بھی مختلف کوہ پیمائی مہمات میں حصہ لے چکی تھیں۔ انہوں نے موسمِ سرما میں 4,076 میٹر بلند موسیٰ کا مصلیٰ بھی سر کیا تھا جبکہ رُوپل اور ارندو کے علاقوں میں ہونے والی کوہ پیمائی سرگرمیوں سے بھی ان کی وابستگی رہی۔
کامیاب چوٹی کے بعد حادثہ کیوں پیش آیا؟
اسپینٹک سر کرنے کے بعد پیش آنے والا حادثہ ایک بار پھر یہ حقیقت سامنے لاتا ہے کہ انتہائی بلندی پر کوہ پیمائی میں چوٹی تک پہنچنا ہی آخری مرحلہ نہیں ہوتا۔ کئی ماہرین کے نزدیک مشکل اور خطرناک مرحلہ اکثر واپسی یا ڈیسنٹ کا ہوتا ہے، کیونکہ اس وقت کوہ پیما کئی گھنٹوں کی مسلسل جسمانی مشقت، شدید سردی، کم آکسیجن اور بلند مقام کے دباؤ کا سامنا کرچکا ہوتا ہے۔
6,000 میٹر سے زیادہ بلندی پر انسانی جسم کو عام سطحِ سمندر کے مقابلے میں انتہائی کم آکسیجن دستیاب ہوتی ہے۔ اس ماحول میں جسمانی تھکن اور اچانک طبی پیچیدگیاں تیزی سے سنگین شکل اختیار کرسکتی ہیں۔ عاصمہ مشتاق کے معاملے میں بھی چوٹی سر کرنے کے بعد تقریباً 6,400 میٹر پر اچانک طبی مسئلہ پیش آیا، جس کے بعد گائیڈز نے انہیں نیچے منتقل کرنے کی کوشش کی۔
اگرچہ بعض میڈیا رپورٹس میں ان کی موت کو ہائی آلٹی ٹیوڈ سکنس یعنی بلند ارتفاع کی بیماری سے جوڑا گیا ہے، تاہم دستیاب سرکاری معلومات میں موت کی حتمی طبی وجہ کی تفصیلی تشخیص سامنے نہیں آئی۔ اس لیے حتمی طبی سبب کے بارے میں احتیاط ضروری ہے۔
گائیڈز کی فوری کوششیں
حادثے کے بعد عاصمہ مشتاق کے گائیڈ اکبر علی نے فوری طور پر ان کی مدد کی۔ دستیاب رپورٹوں کے مطابق انہوں نے انہیں ابتدائی طبی امداد دینے کے ساتھ ساتھ ہنگامی طور پر نیچے لانے کی کوشش بھی کی۔ دیگر مہماتی عملے نے بھی ان کی مدد کی، لیکن انتہائی بلندی اور مشکل موسمی و جغرافیائی حالات نے امدادی کوششوں کو انتہائی مشکل بنا دیا۔
مہم کی انتظامیہ نے عاصمہ مشتاق کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق Karakoram Calling Treks متعلقہ حکام اور عاصمہ کے خاندان کے ساتھ رابطے میں ہے اور میت کو واپس لانے سے متعلق انتظامات میں تعاون کررہی ہے۔
پاکستان کی بلند چوٹیوں کا بڑھتا ہوا خطرہ
عاصمہ مشتاق کا المناک واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں میں رواں کوہ پیمائی سیزن کے دوران کئی سنگین حادثات پیش آچکے ہیں۔ بلند پہاڑوں پر مہم جوئی میں کم آکسیجن، انتہائی سردی، برفانی تودے، پتھر گرنے، دشوار گزار راستوں اور موسم کی اچانک تبدیلی جیسے خطرات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔
اس سے قبل رواں موسم میں براڈ پیک پر ایک برفانی تودے کے حادثے میں بھی متعدد کوہ پیماؤں کی جانیں گئیں۔ اس تناظر میں اسپینٹک کا واقعہ ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان کے شاندار پہاڑ دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کے لیے کشش کا مرکز ضرور ہیں، لیکن یہاں مہم جوئی کے لیے اعلیٰ درجے کی تیاری، موسمی نگرانی، طبی سہولیات، تجربہ کار گائیڈز اور مؤثر ریسکیو نظام انتہائی ضروری ہے۔
ایک کامیاب مہم کا المناک اختتام
عاصمہ مشتاق کے لیے اسپینٹک مہم ایک خواب کی تکمیل تھی۔ وہ 7,027 میٹر بلند چوٹی تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں، لیکن پہاڑ سے نیچے اترتے ہوئے پیش آنے والی طبی ہنگامی صورتحال نے اس کامیابی کو ایک المناک واقعے میں تبدیل کردیا۔
ان کی زندگی کا یہ پہلو بھی قابلِ ذکر ہے کہ انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کے ساتھ سفر، قدرت اور کوہ پیمائی کے شوق کو زندہ رکھا۔ ایک طرف وہ برطانیہ میں ڈاکٹر کی حیثیت سے انسانی زندگیوں کی خدمت کررہی تھیں، تو دوسری طرف پاکستان کے پہاڑوں اور قدرتی مناظر کو دریافت کرنا ان کے شوق کا حصہ تھا۔
ان کا انتقال پاکستان کے لیے اس اعتبار سے بھی ایک نقصان ہے کہ وہ ان خواتین پاکستانیوں میں شامل تھیں جو پیشہ ورانہ زندگی کے ساتھ مہم جوئی اور کوہ پیمائی جیسے چیلنجنگ شعبے میں بھی اپنی شناخت بنا رہی
تھیں ۔
دوسری جانب
پاکستانی کوہ پیمائی برادری اور عاصمہ مشتاق کے مداحوں نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ان کے سفر، قدرت سے محبت اور مہم جوئی کے جذبے کو یاد کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر بھی تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔
#AsmaMushtaq #DrAsmaMushtaq #Spantik #GoldenPeak #PakistanMountaineering #Karakoram #Mountaineering #GilgitBaltistan #PakistaniMountaineer #WomenMountaineers #HighAltitude #MountainSafety #AdventurePakistan #TravelVlogger #AlpineClubOfPakistan #KarakoramCalling
