آزادی نیوز
مظفرآباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی آزاد جموں و کشمیر کے نئے وزیراعظم منتخب ہوگئے۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں جمعہ کو ہونے والے انتخاب میں انہوں نے 44 میں سے 30 ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے واحد مدِمقابل پاکستان پیپلز پارٹی کے سردار مختار احمد عباسی نے 14 ووٹ حاصل کیے۔
آزاد کشمیر اسمبلی کی مجموعی نشستوں کی تعداد 53 ہے تاہم اس وقت ایوان کی موجودہ تعداد 46 ہے، کیونکہ پونچھ اور سدھنوتی کے سات حلقوں میں انتخابات ابھی باقی ہیں۔ موجودہ ارکان میں مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادیوں کے پاس 32 جبکہ پیپلز پارٹی کے پاس 14 نشستیں ہیں۔ اسپیکر نے ووٹ نہیں ڈالا جبکہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر بھی اجلاس میں موجود نہیں تھے۔
افتخار علی گیلانی نے پیپلز پارٹی کے فیصل ممتاز راٹھور کی جگہ وزارتِ عظمیٰ سنبھالی ہے، جو نومبر 2025 میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔
نامزدگی پر مسلم لیگ (ن) میں اختلاف
افتخار علی گیلانی کی نامزدگی مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کی جانب سے کی گئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں آزاد کشمیر کی پارٹی قیادت کے اہم رہنماؤں سے ملاقات کے دوران پارٹی قائد نواز شریف کا فیصلہ پہنچایا کہ گیلانی وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار ہوں گے۔
تاہم اس فیصلے کو آزاد کشمیر کی مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے بعض اہم رہنماؤں کی مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ پارٹی کے آزاد کشمیر صدر شاہ غلام قادر اور سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے ابتدا میں اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ بعد ازاں راجہ فاروق حیدر انتخاب کے روز افتخار گیلانی کے ساتھ اسمبلی پہنچے، جبکہ شاہ غلام قادر اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
انتخابی پس منظر
آزاد کشمیر میں حالیہ انتخابات تین مراحل میں ہوئے۔ براہِ راست انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے 38 حلقوں میں سے 25 نشستیں حاصل کیں، جبکہ پیپلز پارٹی کو 12 نشستیں ملیں۔ عوامی دست و بازو پارٹی کا ایک کامیاب امیدوار بھی مسلم لیگ (ن) کے ساتھ شامل ہوگیا۔ مخصوص نشستوں پر مسلم لیگ (ن) نے چھ جبکہ پیپلز پارٹی نے دو نشستیں حاصل کیں۔ تاہم پیپلز پارٹی نے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔
کون ہیں افتخار علی گیلانی؟
بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی 27 جولائی 1980 کو مظفرآباد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اسلام آباد میں حاصل کی اور بعد ازاں لندن کی SOAS یونیورسٹی سے بیچلرز کی ڈگری حاصل کی۔ 2005 میں انہیں لنکنز اِن سے بار میں بلایا گیا اور اگلے سال انہوں نے اسلام آباد میں وکالت شروع کی۔
وہ دسمبر 2010 میں آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کے تنظیمی ڈھانچے کے قیام کے وقت ہی پارٹی کے نمایاں نوجوان چہروں میں شامل تھے۔
2011 کے ضمنی انتخاب میں انہوں نے مظفرآباد کی نشست سے کامیابی حاصل کرکے اپنی سیاسی صلاحیت کا پہلا بڑا ثبوت دیا۔ 2016 کے انتخابات میں دوبارہ کامیابی کے بعد انہیں مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں اعلیٰ و اسکول تعلیم کا وزیر بنایا گیا اور انہوں نے تقریباً پوری پانچ سالہ مدت کابینہ میں گزاری۔
اس دوران وہ وزیراعظم یوتھ بزنس لون پروگرام کے فوکل پرسن اور کوآرڈینیٹر بھی رہے اور مریم نواز کے ساتھ بھی کام کیا۔ وہ 2013 کے عام انتخابات سے قبل مسلم لیگ (ن) کی مرکزی منشور کمیٹی کا حصہ بھی رہے۔
تاہم 2021 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی شدید شکست کے ساتھ گیلانی بھی اپنی نشست ہار گئے۔ کئی برس کی سیاسی غیر یقینی کے بعد وہ اگست 2026 میں ٹیکنوکریٹس اور پروفیشنلز کے لیے مخصوص نشست پر دوبارہ اسمبلی میں پہنچے اور حیران کن طور پر وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار بن گئے۔
نئے وزیراعظم کے سامنے تین فوری اور بڑے چیلنجز
1۔ اپنی ہی جماعت کے اندر سیاسی اختلافات ختم کرنا
گیلانی کے لیے سب سے فوری چیلنج حکومتی امور سے بھی پہلے اپنی جماعت کے اندر مکمل سیاسی ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔
ان کی نامزدگی پر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر اور سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے تحفظات سامنے آئے۔ اگرچہ انتخاب کے بعد صورتحال بظاہر نرم پڑتی دکھائی دے رہی ہے، لیکن یہ اختلافات مستقبل میں حکومت کی کارکردگی اور اسمبلی میں قانون سازی پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
گیلانی کی اصل آزمائش یہ ہوگی کہ وہ مرکزی قیادت کے حمایت یافتہ وزیراعظم کے بجائے آزاد کشمیر کے اندر ایک متفقہ سیاسی قائد بن سکیں۔
ان کی صلاحیت:
یہاں ان کا وکالت کا پس منظر، سابق کابینہ کا تجربہ اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت سے روابط مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ لیکن ان کے لیے سب سے ضروری چیز سیاسی مفاہمت اور طاقت کے مختلف مراکز کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت ہوگی۔
2۔ عوامی توقعات، گورننس اور معاشی مسائل
نئی حکومت کو ایک ایسے ماحول میں کام کرنا ہوگا جہاں عوام فوری طور پر روزگار، تعلیم، صحت، سڑکوں، بجلی، سیاحت اور بنیادی سہولیات میں بہتری چاہتے ہیں۔
گیلانی کے لیے یہ چیلنج اس لیے بھی اہم ہے کہ ان کی سیاسی شناخت کا ایک حصہ تعلیم کے شعبے میں سابق وزارت سے جڑا ہوا ہے۔ 2016 سے 2021 تک وہ اعلیٰ و اسکول تعلیم کے وزیر رہے۔
اس لیے ان سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ تعلیم، نوجوانوں کے روزگار اور انسانی ترقی کو حکومت کے نمایاں ایجنڈے میں شامل کریں۔
ان کی صلاحیت:
تعلیم کی وزارت اور یوتھ بزنس لون پروگرام کے تجربے کی وجہ سے انہیں تعلیم، نوجوانوں اور روزگار کے معاملات کا عملی انتظامی تجربہ حاصل ہے۔ تاہم وزیراعظم کے منصب پر چیلنج کا دائرہ کہیں وسیع ہے، جس میں مالیاتی انتظام، بیوروکریسی، ترقیاتی منصوبہ بندی اور مرکز کے ساتھ وسائل کے معاملات بھی شامل ہیں۔
3۔ کشمیر کاز، اسلام آباد سے تعلقات اور سیاسی استحکام
آزاد کشمیر کے وزیراعظم کا منصب محض صوبائی نوعیت کا انتظامی عہدہ نہیں۔ کشمیر کا مسئلہ، لائن آف کنٹرول، بھارت کے ساتھ کشیدگی، وفاقی حکومت کے ساتھ تعلقات اور آزاد کشمیر کی داخلی سیاسی خودمختاری ہمیشہ اس منصب کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں۔
گیلانی کی سب سے بڑی طاقت ان کے مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت سے مضبوط سیاسی روابط ہوسکتے ہیں۔ ان کی نامزدگی خود نواز شریف کی منظوری اور وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے آزاد کشمیر کی قیادت کو فیصلے سے آگاہ کیے جانے کے بعد ہوئی۔
لیکن یہی تعلق ان کے لیے ایک سیاسی امتحان بھی بن سکتا ہے۔
اگر وہ اسلام آباد کے ساتھ مضبوط رابطے کو آزاد کشمیر کے لیے زیادہ وسائل، بہتر سفارتی و سیاسی رابطوں اور ترقیاتی تعاون میں تبدیل کرتے ہیں تو یہ ان کی کامیابی ہوگی۔ لیکن اگر ان کی حکومت کو محض مرکزی قیادت کی توسیع سمجھا جانے لگا تو اپوزیشن اور داخلی سیاسی حلقوں کی تنقید میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
کیا افتخار علی گیلانی ان چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟
ابتدائی جائزہ یہ ہے کہ ان کے پاس مطلوبہ سیاسی و انتظامی تجربے کے اہم اجزا موجود ہیں، لیکن ان کی کامیابی ابھی ثابت شدہ نہیں۔
ان کے حق میں تین اہم باتیں جاتی ہیں:
اول: وہ 2011 میں انتخابی سیاست میں کامیاب ہوئے، 2016 میں دوبارہ منتخب ہوئے اور پانچ سال تک کابینہ میں وزیر رہے۔
دوم: انہیں تعلیم، نوجوانوں اور حکومتی پروگراموں کے انتظام کا تجربہ حاصل ہے، جبکہ وکالت کی تربیت انہیں قانونی اور آئینی معاملات کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
سوم: مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کے ساتھ ان کے روابط انہیں اسلام آباد سے وسائل اور سیاسی تعاون حاصل کرنے میں نسبتاً مضبوط پوزیشن دے سکتے ہیں۔
تاہم ان کے خلاف تین بڑے سوالات بھی موجود ہیں:
پہلا: وہ 2021 میں انتخاب ہار گئے تھے اور 2026 میں مخصوص ٹیکنوکریٹ نشست کے ذریعے اسمبلی میں واپس آئے ہیں۔ اس لیے ان کے پاس موجودہ براہِ راست عوامی مینڈیٹ محدود سمجھا جاسکتا ہے۔
دوسرا: وزارتِ عظمیٰ کے لیے ان کا انتخاب پارٹی کے اندر مکمل اتفاقِ رائے سے نہیں ہوا۔ اس اختلاف کو ختم کرنا ان کی سیاسی قیادت کا پہلا امتحان ہوگا۔
تیسرا: موجودہ حکومت کو صرف پارٹی سیاست نہیں بلکہ عوامی توقعات، معاشی دباؤ، ترقیاتی ضروریات اور کشمیر کے وسیع تر سیاسی مسئلے کو ایک ساتھ سنبھالنا ہوگا۔
مجموعی سیاسی تجزیہ
افتخار علی گیلانی کو ایک "تجربہ کار مگر دوبارہ ابھرنے والے" سیاست دان کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ وہ مکمل طور پر نوآموز نہیں؛ ان کے پاس وکالت، قانون سازی، وزارت اور حکومتی پروگراموں کا تجربہ ہے۔ لیکن وزیراعظم کے طور پر ان کی اصل صلاحیت کا فیصلہ اس بات سے ہوگا کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے اندرونی اختلافات کو کس حد تک ختم کرتے ہیں، اپوزیشن کے ساتھ کس حد تک مفاہمت کرتے ہیں اور اسلام آباد کے سیاسی اثر و رسوخ کو آزاد کشمیر کے عوامی مفاد میں کس حد تک تبدیل کر پاتے ہیں۔
اگر وہ یہ تین محاذ سنبھال لیتے ہیں تو ان کا نسبتاً مختصر مگر متنوع سیاسی تجربہ ان کے لیے طاقت بن سکتا ہے؛ بصورت دیگر ان کی "ڈارک ہارس" کے طور پر ہونے والی حیران کن سیاسی واپسی ایک مشکل اور
مختصر سیاسی دور میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
#AJK #AzadKashmir #IftikharAliGilani #AJKPrimeMinister #NewAJKPM #PMLN #PakistanMuslimLeagueN #Muzaffarabad #AJKPolitics #KashmirPolitics #PoliticalNews #PakistanPolitics #KashmirIssue #AJKGovernment #AJKAssembly #PrimeMinister #PoliticalLeadership #Governance #PublicInterest #BreakingNews #LatestNews #ACPNews
