ایبٹ آباد /سید کوثر نقوی 
وزارتِ توانائی کے پاور ڈویژن نے ملک بھر کی بجلی کی تقسیم کار اور پیداواری کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین کے نام پر ملازمین کی تنخواہوں سے یونین فنڈ کی کٹوتی فوری طور پر روک دی جائے۔ وزارت نے واضح کیا ہے کہ حالیہ عدالتی اور صنعتی تعلقات سے متعلق فیصلوں کی روشنی میں مذکورہ یونین اب رجسٹرڈ یونین کی حیثیت نہیں رکھتی۔

پاور ڈویژن کی جانب سے 3 اگست 2026 کو جاری کیے گئے مراسلے میں پشاور ہائیکورٹ کے 7 مئی 2026 کے فیصلے اور نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن (این آئی آر سی) اسلام آباد کے 30 جولائی 2026 کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے تمام متعلقہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (DISCOs) اور جنریشن کمپنیوں (GENCOs) کو ہدایات پر مکمل طور پر عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔

وزارت نے اپنے حکم میں واضح کیا ہے کہ ملازمین کی تنخواہوں سے یونین فنڈ کے نام پر کٹوتی فی الفور بند کی جائے اور مجاز اتھارٹی کی جانب سے مزید کوئی فیصلہ ہونے تک اس مد میں کسی قسم کی نئی کٹوتی نہ کی جائے۔

یہ پیش رفت بجلی کے شعبے سے وابستہ ہزاروں ملازمین کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین کا فنڈ طویل عرصے سے ملازمین کی تنخواہوں سے باقاعدہ کٹوتی کے ذریعے وصول کیا جاتا رہا ہے۔ وزارتِ توانائی کی تازہ ہدایت کے بعد یہ سلسلہ فی الحال معطل ہوگیا ہے۔

یہ معاملہ آئینی درخواست نمبر 7228-P/2025 سے متعلق ہے، جو آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین نے وفاق پاکستان، وزارتِ توانائی اور دیگر متعلقہ اداروں کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں دائر کی تھی۔

یونین نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ واپڈا، پیپکو اور اس سے کارپوریٹ شکل اختیار کرنے والی کمپنیوں کو صنعتی تعلقات ایکٹ 2012 کی دفعہ 62 کے تحت ایک ہی اجتماعی سوداکاری یونٹ (Collective Bargaining Unit) قرار دیا جائے۔ یونین نے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ واپڈا، پیپکو اور ان کی کارپوریٹ کمپنیوں میں ملازمین کی نمائندگی کرنے والی کسی دوسری یونین کی رجسٹریشن پر پابندی عائد کی جائے۔

تاہم نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن نے یونین کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ واپڈا ایک علیحدہ اتھارٹی اور آجر ہے، جبکہ ڈسکوز، جینکوز اور دیگر کارپوریٹ ادارے الگ الگ آجر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ این آئی آر سی کے فل بینچ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا۔

پشاور ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ، جس میں جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی شامل تھے، نے بھی یونین کی آئینی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ واپڈا کے تنظیمی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل اور اس کے مختلف فرائض کی تقسیم کے نتیجے میں بجلی کے شعبے کے متعلقہ ادارے الگ الگ کارپوریٹ ادارے بن چکے ہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ بجلی کی ترسیل، پیداوار اور تقسیم کے فرائض مختلف اداروں کو منتقل کیے جاچکے ہیں، جن میں نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (NTDC)، مختلف جینکوز اور ڈسکوز شامل ہیں، اور یہ ادارے اپنے طور پر الگ قانونی حیثیت اور آجر کا درجہ رکھتے ہیں۔

عدالت نے مزید واضح کیا کہ محض اس بنیاد پر کہ واپڈا اور اس سے کارپوریٹ شکل اختیار کرنے والی کمپنیاں وفاقی وزارت کے انتظامی دائرہ کار میں کام کرتی ہیں، انہیں صنعتی تعلقات ایکٹ کی دفعہ 62 کے مقصد کے لیے ایک ہی آجر قرار نہیں دیا جاسکتا۔

دوسری جانب این آئی آر سی نے اپنے 30 جولائی 2026 کے حکم میں پاکستان ضروری خدمات (بحالی) ایکٹ 1952 کے تحت جاری کیے گئے ایک وفاقی نوٹیفکیشن سے متعلق کارروائی میں پہلے جاری کیا گیا عبوری حکم امتناعی بھی واپس لے لیا۔ کمیشن نے اپنے دائرۂ اختیار سے متعلق دلائل کے لیے 25 ستمبر 2026 کی تاریخ مقرر کی ہے۔

وزارتِ توانائی کے پاور ڈویژن کی 3 اگست کی تازہ ہدایت کو پشاور ہائیکورٹ اور این آئی آر سی کی کارروائیوں سے سامنے آنے والی قانونی پوزیشن کا انتظامی سطح پر فوری نفاذ قرار دیا جارہا ہے، بالخصوص ملازمین کی تنخواہوں سے یونین فنڈ کی وصولی کے حوالے سے۔

پاور ڈویژن نے تمام متعلقہ اداروں کو واضح طور پر ہدایت کی ہے کہ یونین فنڈ کے نام پر تنخواہوں سے کٹوتیاں مزید احکامات یا مجاز اتھارٹی کے نئے فیصلے تک معطل رہیں گی۔

#WAPDA #HydroElectricUnion #PowerDivision #Pakistan #DISCOs #GENCOs #NIRC #PeshawarHighCourt #LabourRelations #UnionFund #ElectricityEmployees #WAPDAEmployees #PakistanPowerSector