اسلام آباد | ازادی ڈیسک
پاکستان میں موبائل اور ٹیلی کمیونیکیشن سروسز کے معیار سے متعلق صارفین کی شکایات اور ناقص کارکردگی پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے گزشتہ چار برس کے دوران مختلف ٹیلی کام آپریٹرز پر مجموعی طور پر 3 ارب 41 کروڑ روپے کے مالی جرمانے عائد کیے ہیں۔
یہ اعداد و شمار وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں پیش کیے۔
حکومت کے مطابق جرمانے ان ٹیلی کام کمپنیوں کے خلاف کیے گئے جو مقررہ کوالٹی آف سروس (QoS) کے معیار پر پورا اترنے میں ناکام رہیں۔
چار برس میں 500 سے زائد کوالٹی سروے
قومی اسمبلی کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق پی ٹی اے نے گزشتہ چار برس کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں موبائل اور ٹیلی کمیونیکیشن سروسز کے معیار کا جائزہ لینے کے لیے 500 سے زائد کوالٹی آف سروس سروے کیے۔
ان سرویز کا دائرہ صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ دیہی علاقوں، شاہراہوں، موٹرویز اور ریلوے کوریڈورز کو بھی شامل کیا گیا۔
اس کے علاوہ صارفین کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کی بنیاد پر 200 سے زیادہ شکایتی سروے بھی کیے گئے۔
ان سرویز کے ذریعے موبائل نیٹ ورک کی دستیابی، کال کا معیار، ڈیٹا سروس اور دیگر مقررہ معیار کا جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ ٹیلی کام آپریٹرز اپنے لائسنس کی شرائط اور صارفین سے کیے گئے وعدوں کے مطابق سروس فراہم کر رہے ہیں یا نہیں۔
وارننگ اور شوکاز نوٹس بھی جاری
پی ٹی اے نے سروس کے معیار سے متعلق خلاف ورزیوں پر صرف مالی جرمانوں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ٹیلی کام آپریٹرز کے خلاف مختلف انتظامی اقدامات بھی کیے۔
حکومتی جواب کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران پی ٹی اے نے کمپنیوں کو 20 وارننگ لیٹرز جاری کیے جبکہ 86 شوکاز نوٹسز (SCNs) بھی جاری کیے گئے۔
شوکاز نوٹس کے ذریعے متعلقہ آپریٹرز سے وضاحت طلب کی جاتی ہے کہ مقررہ ضوابط اور سروس کوالٹی کے تقاضوں کی خلاف ورزی کیوں ہوئی اور ان کے خلاف مزید کارروائی کیوں نہ کی جائے۔
حکومت کے مطابق اس پورے عمل کا بنیادی مقصد ٹیلی کام کمپنیوں کو صارفین کو بہتر، قابل اعتماد اور مقررہ معیار کے مطابق خدمات فراہم کرنے کا پابند بنانا ہے۔
کمپنیوں پر صارفین کے حقوق کی ذمہ داری
شزہ فاطمہ خواجہ کے مطابق ٹیلی کام آپریٹرز صارفین سے اپنے مشتہر کردہ ٹیرف کے مطابق معاوضہ وصول کرتے ہیں، اس لیے ان پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے لائسنس کی شرائط کے تحت مقررہ سروس کوالٹی برقرار رکھیں۔
یعنی صارف جس سروس کے لیے رقم ادا کرتا ہے، اسے مقررہ معیار کے مطابق سروس کی فراہمی بھی یقینی بنانا ٹیلی کام کمپنی کی ذمہ داری ہے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ ٹیلی کام آپریٹرز کے خلاف کارروائی کے لیے کسی نئی یا الگ مالیاتی پالیسی کی ضرورت نہیں۔
موجودہ قانون ہی جرمانے کی اجازت دیتا ہے
وفاقی وزیر کے تحریری جواب کے مطابق حکومت نے ٹیلی کام کمپنیوں پر مزید مالی جرمانے عائد کرنے کے لیے کوئی علیحدہ پالیسی تجویز نہیں کی، کیونکہ موجودہ قانونی اور ریگولیٹری نظام ہی پی ٹی اے کو خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی کا اختیار دیتا ہے۔
پی ٹی اے Pakistan Telecommunication (Reorganization) Act, 1996، متعلقہ لائسنس کی شرائط اور Cellular Mobile Network Quality of Service Regulations کے تحت وارننگ، شوکاز نوٹس اور مالی جرمانے عائد کرسکتی ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے سروس کوالٹی محض انتظامی ہدایت نہیں بلکہ ان کے لائسنس اور قانونی ذمہ داریوں کا حصہ ہے۔
نئے اسپیکٹرم قوانین سے معیار مزید سخت
حکومت کے مطابق ملک میں موبائل سروسز کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے حالیہ اسپیکٹرم نیلامی اور Next Generation Mobile Services (NGMS) لائسنس کی نئی شرائط کے ذریعے ریگولیٹری تقاضوں کو مزید سخت کیا گیا ہے۔
نئی شرائط میں ٹیلی کام آپریٹرز کے لیے:
نیٹ ورک کی توسیع کے اضافی اہداف
مزید 4G اور 5G سائٹس کا قیام
سروس کوالٹی کے زیادہ بلند معیار
نیٹ ورک کو مرحلہ وار جدید بنانے کی ذمہ داریاں
شامل کی گئی ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد خاص طور پر ان علاقوں میں ٹیلی کمیونیکیشن سروسز کو بہتر بنانا ہے جہاں صارفین کو کمزور سگنل، کال ڈراپ، سست انٹرنیٹ یا دیگر مسائل کا سامنا رہتا ہے۔
دیہی اور دور دراز علاقوں پر بھی توجہ
پاکستان میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے باوجود شہری اور دیہی علاقوں میں سروس کے معیار میں فرق اب بھی صارفین کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔
پہاڑی اور دور دراز علاقوں میں صورتحال مزید مشکل ہوسکتی ہے جہاں جغرافیائی حالات، محدود انفراسٹرکچر اور کم تعداد میں موبائل سائٹس کی وجہ سے نیٹ ورک کوریج متاثر ہوتی ہے۔
پی ٹی اے کے سرویز میں دیہی علاقوں، شاہراہوں، موٹرویز اور ریلوے کوریڈورز کو شامل کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریگولیٹر اب صرف بڑے شہری مراکز میں سروس کے معیار کی نگرانی تک محدود نہیں رہنا چاہتا۔
نئے 4G اور 5G سائٹس کے اضافے سے امید کی جا رہی ہے کہ ملک کے ان علاقوں میں بھی موبائل ڈیٹا اور وائس سروسز کی دستیابی بہتر ہوگی جہاں صارفین طویل عرصے سے ناقص نیٹ ورک کا سامنا کر رہے ہیں۔
جرمانے صارفین کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں؟
ٹیلی کام کمپنیوں پر اربوں روپے کے جرمانوں کا اصل مقصد صرف ریاستی خزانے میں رقم جمع کرنا نہیں بلکہ کمپنیوں کو اپنی سروسز بہتر بنانے پر مجبور کرنا ہے۔
اگر ایک طرف پی ٹی اے مسلسل سروے اور نگرانی جاری رکھتی ہے تو دوسری طرف صارفین کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ ناقص سروس کی صورت میں باقاعدہ شکایت درج کرائیں۔
کیونکہ پی ٹی اے کی جانب سے کیے جانے والے شکایتی سروے اور ریگولیٹری کارروائی کا ایک اہم ذریعہ صارفین کی رپورٹس بھی ہیں۔
پاکستان میں موبائل فون اب محض رابطے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ تعلیم، کاروبار، بینکنگ، فری لانسنگ، آن لائن روزگار اور سرکاری خدمات تک رسائی کا بنیادی وسیلہ بن چکا ہے۔
اس لیے موبائل اور انٹرنیٹ سروس کا معیار براہ راست شہریوں کی روزمرہ زندگی اور ملکی ڈیجیٹل معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے۔
حکومت اور پی ٹی اے کے تازہ اقدامات کا اصل امتحان اب یہ ہوگا کہ اربوں روپے کے جرمانوں، سینکڑوں سرویز اور نئے 4G/5G تقاضوں کے بعد صارفین کو عملی طور پر کتنی بہتر سروس ملتی ہے۔
PTA #TelecomPakistan #TelecomServices #MobileNetwork #4G #5G #DigitalPakistan #InternetServices #QualityOfService #Pakistan #PTAUpdates #Telecommunication
