اسٹاف رپورٹ
ایبٹ آباد: ایبٹ آباد اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (AAPA) نے اپنے قیام کے مختصر عرصے میں فنونِ لطیفہ کے فروغ کے لیے ایک اور اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے شہر میں پہلی باقاعدہ میوزک اکیڈمی کا آغاز کردیا۔ جلال بابا آڈیٹوریم میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں ایم کے میوزک اکیڈمی کے طلبہ نے کلاسیکل اور روایتی موسیقی کی دل موہ لینے والی پرفارمنس پیش کی، جس پر حاضرین نے بھرپور داد دے کر نوجوان فنکاروں کی حوصلہ افزائی کی۔
تقریب میں فنونِ لطیفہ سے وابستہ افراد، فنکاروں، طلبہ و طالبات، شہریوں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ مقررین نے ایبٹ آباد میں باقاعدہ اور منظم انداز میں موسیقی کی تعلیم و تربیت کے آغاز کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہزارہ ڈویژن میں بے پناہ تخلیقی صلاحیت رکھنے والے نوجوان موجود ہیں، تاہم انہیں مناسب رہنمائی، تربیت اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پلیٹ فارم کی ضرورت ہے۔
افتتاحی تقریب کی سب سے نمایاں خصوصیت ایم کے میوزک اکیڈمی کے طلبہ کی شاندار پرفارمنس تھی۔ نوجوان فنکاروں نے روایتی اور کلاسیکل موسیقی کے مختلف رنگ پیش کیے اور اپنی فنی مہارت سے حاضرین کو متاثر کیا۔ ان کی پرفارمنس نے اس امر کو اجاگر کیا کہ اگر نوجوانوں کو مناسب تربیت اور مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف مقامی بلکہ قومی سطح پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایبٹ آباد اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر صفدر حسین نے کہا کہ AAPA کے قیام کا بنیادی تصور یہ ہے کہ مختلف فنون اور شعبوں کے ماہرین کو ان فنون کے شائقین، طلبہ اور سیکھنے کے خواہشمند افراد تک رسائی فراہم کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی فرد کی عمر، معاشرتی پس منظر یا ماضی میں مواقع کی کمی اس کی تخلیقی صلاحیتوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔
صفدر حسین نے کہا کہ معاشرے میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جن میں فنکارانہ صلاحیتیں تو ہوتی ہیں لیکن انہیں اپنی صلاحیتیں دریافت کرنے، سیکھنے اور آگے بڑھانے کا موقع نہیں ملتا۔ AAPA کا مقصد ایسے افراد کے لیے ایک ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جہاں وہ ماہر اساتذہ سے تربیت حاصل کرکے اپنے اندر چھپی صلاحیتوں کو نکھار سکیں اور انہیں عملی میدان میں بروئے کار لاسکیں۔
انہوں نے بتایا کہ AAPA نے اپنے سفر کا آغاز آرٹ لائن اکیڈمی کے اشتراک سے فائن آرٹ کلاسز کے اجراء سے کیا، جہاں مختلف عمر اور طبقات سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین اور طلبہ و طالبات مصوری کے فن کی باقاعدہ تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ اب استاد گلفام حسین، ایم کے میوزک اکیڈمی اور احسن اکیڈمی آف میوزک اینڈ فلم کے تعاون سے میوزک کلاسز کا آغاز کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق میوزک پروگرام میں طلبہ کو روایتی فوک میوزک، کلاسیکل موسیقی اور مغربی موسیقی کی بنیادی اور ایڈوانس سطح کی عملی تربیت فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس پروگرام کا مقصد صرف موسیقی سکھانا نہیں بلکہ طلبہ کو موسیقی کی تاریخ، بنیادی تکنیک،
سازوں کے استعمال، آواز کی تربیت اور پرفارمنس کے عملی تقاضوں سے بھی روشناس کرانا ہے۔
ہزارہ اباسین آرٹس کونسل کے نائب صدر قاضی زبیر نے کہا کہ کونسل کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ نئے ٹیلنٹ کو آگے آنے کے مواقع فراہم کیے جائیں، تاہم باقاعدہ تربیتی نظام کی عدم موجودگی کے باعث یہ عمل مطلوبہ رفتار سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ ان کے مطابق AAPA اس خلا کو پُر کرنے کی ایک امید افزا کوشش ہے، جہاں نوجوان اپنی صلاحیتوں کو دریافت کرنے کے ساتھ انہیں تربیت اور رہنمائی کے ذریعے نکھار سکیں گے۔
قاضی زبیر نے امید ظاہر کی کہ AAPA سے تربیت حاصل کرنے والے نوجوان مستقبل میں ایبٹ آباد، ہزارہ ڈویژن اور پاکستان کا نام روشن کریں گے اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے ملک کے ثقافتی تشخص کو مزید اجاگر کریں گے۔
مہمانِ اعزاز شاہد رضا خان نے اکیڈمی کے قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایبٹ آباد میں طویل عرصے سے ایسے ادارے کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی جہاں فنونِ لطیفہ کو باقاعدہ تربیتی نظام کے تحت فروغ دیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیر آید درست آید کے مصداق ایک مثبت قدم ہے اور شہریوں، اہلِ فن اور متعلقہ اداروں کو اس اقدام کی کامیابی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
تقریب کی میزبانی کے فرائض صحافی و اینکر طاہر محمود اور مہتاب سکندری نے انجام دیے۔
واضح رہے کہ ایبٹ آباد اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس اپنے قیام کے پہلے روز ہی علاقائی سطح کی ایک آرٹ نمائش کا انعقاد کرچکی ہے، جسے اہلِ فن اور شہریوں کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی۔ اب موسیقی کے شعبے کا باقاعدہ آغاز AAPA کے دائرۂ کار کو مزید وسیع کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
AAPA کا وژن صرف روایتی فنون کی تدریس تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسے تخلیقی پلیٹ فارم کا قیام ہے جہاں نوجوانوں اور عام شہریوں کو فنونِ لطیفہ، تخلیقی اظہار، شخصیت سازی اور غیر روایتی علوم و مہارتوں کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کو دریافت کرنے کے مواقع مل سکیں۔ اسی وژن کے تحت مستقبل قریب میں پرسنیلٹی ڈیولپمنٹ، ڈاکومنٹری فلم میکنگ اور ڈیجیٹل اسٹوری ٹیلنگ، خطاطی اور دیگر تخلیقی شعبوں میں پروگرام شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔
AAPA کا قیام ACP News اور ہزارہ اباسین آرٹس کونسل کے اشتراک سے عمل میں آیا ہے اور اس کا بنیادی مقصد ہزارہ ڈویژن میں ایک ایسا جامع پلیٹ فارم تشکیل دینا ہے جہاں فنونِ لطیفہ کو محض تفریح نہیں بلکہ تعلیم، شخصیت سازی، روزگار، تخلیقی صنعت اور ثقافتی شناخت کے اہم ذرائع کے طور پر فروغ دیا جاسکے۔
یہ ادارہ بالخصوص نوجوانوں کے لیے ایک ایسا راستہ کھول سکتا ہے جہاں وہ اپنی روایتی تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ تخلیقی اور عملی مہارتیں بھی حاصل کریں۔ یوں AAPA مستقبل میں ہزارہ ڈویژن اور خیبر پختونخوا میں ایک مضبوط Creative Learning and Performing Arts Ecosystem کی بنیاد رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
#AbbottabadAcademyOfPerformingArts #AAPA #MusicAcademy #Hazara #Abbottabad #PerformingArts #MusicEducation #ClassicalMusic #FolkMusic #FineArts #CreativeYouth #YouthEmpowerment #ArtsAndCulture #DigitalStorytelling #DocumentaryFilmmaking #HazaraAbaseenArtsCouncil
