شفیق سید | مظفر آباد

آزاد جموں و کشمیر میں 2026 کے عام انتخابات مکمل ہونے کے بعد اب انتخابی سیاست کا مرکز پولنگ اسٹیشنوں سے منتقل ہو کر حکومت سازی، وزارتِ عظمیٰ کے انتخاب اور نئی حکومت کے پہلے سو دنوں کی طرف آ گیا ہے۔

تین مراحل میں مکمل ہونے والے انتخابات ایک ایسے ماحول میں ہوئے جس میں خطہ کئی ہفتوں سے سیاسی بے چینی، احتجاج، امن و امان کے مسائل اور انتخابی عمل سے متعلق مختلف اعتراضات کا سامنا کر رہا تھا۔ اس کے باوجود پاکستان مسلم لیگ ن نے عمومی نشستوں پر سب سے بڑی پارلیمانی قوت کے طور پر اپنی پوزیشن مستحکم کرلی ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی دوسرے بڑے سیاسی گروپ کے طور پر سامنے آئی ہے۔

اب اصل سوال یہ نہیں کہ انتخابات میں کون جیتا، بلکہ یہ ہے کہ نئی حکومت کس انداز میں بنے گی، اس کی قیادت کون کرے گا اور کیا وہ ایک ایسے کشمیر میں سیاسی استحکام پیدا کر سکے گی جہاں عوام پہلے ہی حکمرانی، وسائل، بجلی، آٹے، روزگار اور سیاسی نمائندگی جیسے سوالات اٹھا رہے ہیں؟

اسی مرحلے پر مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر اور حالیہ انتخابات میں کامیاب ہونے والے تجربہ کار پارلیمنٹیرین شاہ غلام قادر کا نام وزارتِ عظمیٰ کے لیے نمایاں طور پر زیرِ بحث ہے۔

انتخابات سے حکومت سازی تک: اب اگلا مرحلہ کیا ہے؟

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی مجموعی طور پر 53 نشستوں پر مشتمل ہے، جن میں 45 عمومی اور 8 مخصوص نشستیں شامل ہیں۔

حالیہ انتخابات کے بعد مسلم لیگ ن نے عمومی نشستوں میں واضح برتری حاصل کی ہے۔ رائٹرز کے مطابق ن لیگ نے کم از کم 25 نشستیں حاصل کر کے حکومت بنانے کی پوزیشن مضبوط کرلی تھی، جبکہ پیپلز پارٹی تقریباً 12 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی۔ مخصوص نشستوں کے مرحلے کے بعد ن لیگ کی عددی پوزیشن مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا، جبکہ پیپلز پارٹی نے انتخابی نتائج اور بعض حلقوں میں مبینہ دھاندلی پر اعتراضات اٹھائے۔

یوں نئی اسمبلی کے قیام کے بعد مسلم لیگ ن کے سامنے سب سے پہلا مرحلہ وزیراعظم، صدر، اسپیکر اور دیگر اہم عہدوں پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا۔

اسی سلسلے میں مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت نے مری میں اہم مشاورت کی ہے۔ 15 اور 16 اگست کو ہونے والی مشاورت میں نواز شریف کی زیرِ صدارت حکومت سازی اور آئندہ سیاسی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

نواز شریف کا کشمیر کے لیے ترقیاتی وعدہ

مری کے اجلاس میں نواز شریف نے واضح کیا کہ اب عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی گنجائش نہیں۔ ان کے مطابق کشمیر میں ترقیاتی کاموں کی فراہمی ضروری ہے اور اگر وعدے پورے نہ کیے گئے تو عوام ناراض ہوں گے۔

نواز شریف نے یہ بھی عندیہ دیا کہ وہ خود کشمیر کے معاملات میں کسی نہ کسی شکل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بیان اس لحاظ سے اہم ہے کہ نئی حکومت محض ایک سیاسی سیٹ اپ نہیں ہوگی بلکہ اسے وفاقی حکومت اور مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کے ساتھ براہِ راست سیاسی و انتظامی ہم آہنگی کے ذریعے ترقیاتی ایجنڈا آگے بڑھانے کی کوشش کرنا ہوگی۔

لیکن یہی وعدہ نئی حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان بھی بن سکتا ہے۔

کیونکہ عوام اب محض اعلانات نہیں بلکہ بجلی کے نرخ، سستی خوراک، سڑکیں، ہسپتال، تعلیمی ادارے، روزگار اور مقامی معیشت میں بہتری جیسے قابلِ پیمائش نتائج چاہتے ہیں۔

شاہ غلام قادر: وزارتِ عظمیٰ کی دوڑ میں سب سے نمایاں نام؟

حکومت سازی کی مشاورت میں جن ناموں پر غور کیا جا رہا ہے ان میں شاہ غلام قادر کو اہم ترین امیدواروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

وہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر ہیں اور 2026 کے انتخابات میں نیلم سے دوبارہ کامیاب ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ ن نے انہیں نیلم ویلی کی دونوں عمومی نشستوں، LA-25 اور LA-26، سے امیدوار بنایا تھا۔

حالیہ انتخاب میں شاہ غلام قادر نے LA-25 نیلم-I سے کامیابی حاصل کی۔

ان کی موجودہ سیاسی حیثیت محض ایک منتخب رکن اسمبلی تک محدود نہیں۔ وہ پارٹی کی قیادت، پارلیمانی تجربے اور قانون ساز اسمبلی کی کارروائی کا طویل تجربہ رکھنے والے رہنما ہیں۔

اسی لیے اگر مسلم لیگ ن قیادت ایک ایسے شخص کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے منتخب کرنا چاہتی ہے جو پارٹی، اسمبلی اور اپوزیشن تینوں کا تجربہ رکھتا ہو تو شاہ غلام قادر کا نام مضبوط دکھائی دیتا ہے۔

تاہم حتمی فیصلہ پارٹی قیادت اور پارلیمانی عمل کے ذریعے ہی سامنے آئے گا۔

کون ہیں شاہ غلام قادر؟

شاہ غلام قادر کا سیاسی سفر کئی دہائیوں پر محیط ہے۔

انہوں نے ابتدا میں کشمیر کی مہاجرین کی نشستوں سے سیاست کی اور بعد ازاں اپنی سیاسی شناخت کو وادی نیلم کے ساتھ مضبوط کیا۔

2011 میں انہوں نے نیلم سے انتخاب لڑا لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ تاہم 2016 میں انہوں نے نیلم ویلی سے بڑی کامیابی حاصل کی اور تقریباً 23 ہزار ووٹوں کی برتری سے جیت حاصل کی، جو اس وقت ان کی انتخابی مقبولیت کی بڑی علامت سمجھی گئی۔

شاہ غلام قادر کو مسلم لیگ ن کی حکومتوں میں مختلف وزارتی ذمہ داریاں بھی ملتی رہی ہیں۔

ان کی سیاسی شناخت کا ایک اہم پہلو قانون ساز اسمبلی کی اسپیکرشپ ہے۔

وہ پہلی مرتبہ 24 جولائی 2006 سے 12 اگست 2010 تک آزاد کشمیر اسمبلی کے اسپیکر رہے۔ اس کے بعد 2016 میں دوبارہ اسپیکر منتخب ہوئے اور 30 جولائی 2016 سے 3 اگست 2021 تک اس منصب پر فائز رہے۔ آزاد کشمیر اسمبلی کی سرکاری فہرست بھی ان دونوں ادوار کی تصدیق کرتی ہے۔

2016 میں اسپیکر کے انتخاب میں انہیں 40 ڈالے گئے ووٹوں میں سے 39 ووٹ ملے تھے۔

2025 کے آخر میں انہیں آزاد کشمیر اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف نامزد کیا گیا، جس سے ان کی پارلیمانی حیثیت مزید نمایاں ہوئی۔ 

یوں ان کے سیاسی کیریئر میں وزارت، اسپیکرشپ، پارٹی قیادت اور اپوزیشن لیڈرشپ جیسے اہم مناصب شامل رہے ہیں۔

شاہ غلام قادر کے حق میں کیا ہے؟

اگر انہیں وزارتِ عظمیٰ کے لیے منتخب کیا جاتا ہے تو ان کے حق میں سب سے بڑا عنصر ان کا پارلیمانی تجربہ ہوگا۔

وہ اسمبلی کے اندر حکومت اور اپوزیشن دونوں بنچوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔

اسپیکر کی حیثیت سے وہ قانون ساز ادارے کے طریقہ کار سے واقف رہے، جبکہ اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے حکومت پر تنقید اور سیاسی دباؤ کی سیاست بھی کر چکے ہیں۔

دوسرا اہم عنصر ان کی نیلم ویلی سے وابستگی ہے۔

نیلم کشمیر کے ان علاقوں میں شمار ہوتی ہے جہاں جغرافیہ، سرحدی حساسیت، سیاحت، بنیادی ڈھانچے اور روزگار کے مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

اگر شاہ غلام قادر وزارتِ عظمیٰ تک پہنچتے ہیں تو ان کے لیے نیلم سے متعلق تجربہ پورے خطے کی ترقیاتی پالیسی میں تبدیل کرنا بھی ایک امتحان ہوگا۔

تیسرا عنصر مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کے ساتھ ان کے دیرینہ سیاسی تعلقات ہیں۔

لیکن یہی تعلق ان کے لیے ایک سوال بھی پیدا کرتا ہے: کیا وہ مرکزی قیادت کی ترجیحات اور مقامی عوام کے مطالبات کے درمیان متوازن سیاسی راستہ نکال سکیں گے؟

نئی حکومت کا پہلا اور سب سے مشکل چیلنج: عوامی ایکشن کمیٹی

نئی حکومت کے سامنے سب سے پیچیدہ مسئلہ محض اپوزیشن نہیں بلکہ عوامی بے چینی ہے۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، جسے حکومت نے جون میں کالعدم قرار دیا تھا، نے بجلی، آٹے، معاشی ریلیف اور خاص طور پر اسمبلی کی 12 مہاجرین کی نشستوں سمیت مختلف مطالبات پر احتجاج کیا۔ 

احتجاج کے دوران بعض علاقوں میں پرتشدد واقعات، سڑکوں کی بندش، مواصلاتی مسائل اور معمولاتِ زندگی میں خلل پیدا ہوا۔

رائٹرز کے مطابق انتخابی عمل بھی بعض حلقوں میں امن و امان کی صورتحال کے باعث متاثر ہوا اور سات حلقوں میں ووٹنگ مؤخر کرنا پڑی۔ 

اس لیے نئی حکومت کے لیے JAAC کا مسئلہ صرف امن و امان کا مسئلہ نہیں ہوگا۔

یہ دراصل حکمرانی، عوامی اعتماد، وسائل کی تقسیم اور نمائندگی کا سوال بن چکا ہے۔

اگر نئی حکومت صرف انتظامی طاقت سے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتی ہے تو کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔

اس کے برعکس اگر حکومت سیاسی مذاکرات، قانونی راستے اور عوامی مطالبات کے قابلِ عمل حل کو ترجیح دیتی ہے تو حالات معمول پر لانے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔

دوسرا چیلنج: معیشت اور عوامی ریلیف

آزاد کشمیر کی نئی حکومت کو اقتدار سنبھالتے ہی ایک مشکل معاشی حقیقت کا سامنا ہوگا۔

بجلی کے نرخ، آٹے کی قیمت، سبسڈی، روزگار، سڑکوں اور بنیادی انفراسٹرکچر کے مسائل پہلے ہی عوامی سیاست کا حصہ بن چکے ہیں۔

یہاں ایک اہم فرق بھی سمجھنا ہوگا۔

ترقیاتی منصوبہ بنانا آسان ہے، مگر انہیں مسلسل فنڈنگ، شفافیت اور ادارہ جاتی صلاحیت کے ساتھ مکمل کرنا اصل چیلنج ہے۔

نواز شریف نے کشمیر میں پنجاب طرز کی ترقی اور ڈیلیوری کی بات کی ہے  

اگر یہ وعدہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو نئی حکومت کو سب سے پہلے ایسے منصوبے منتخب کرنا ہوں گے جن کے نتائج براہِ راست عوام کو نظر آئیں۔

مثلاً:

سڑکیں، صحت، تعلیم، بجلی، سیاحت، پینے کا پانی، نوجوانوں کے لیے روزگار اور مقامی صنعت۔

تیسرا چیلنج: پیپلز پارٹی کے ساتھ تعلقات

مرکز میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اتحادی ہیں، مگر آزاد کشمیر میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی سیاسی حریف ہیں۔

حالیہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی جانب سے انتخابی عمل اور مبینہ دھاندلی پر اعتراضات بھی سامنے آئے۔ 

نئی حکومت کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اسمبلی میں اپوزیشن کو مکمل سیاسی جگہ دے۔

اگر انتخابی تنازعات عدالتوں یا الیکشن کمیشن کے سامنے جاتے ہیں تو حکومت کو تصادم کے بجائے ادارہ جاتی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

کیونکہ آزاد کشمیر میں سیاسی استحکام کا تعلق صرف حکومت کی مدت سے نہیں بلکہ ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد سے بھی ہے۔

چوتھا چیلنج: کشمیر کاز اور داخلی سیاست میں توازن

آزاد کشمیر کی سیاست کا ایک منفرد پہلو یہ ہے کہ یہاں حکومت کو ایک طرف مقامی مسائل حل کرنا ہوتے ہیں اور دوسری طرف مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہوتا ہے۔

نئی حکومت کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ داخلی حکمرانی اور کشمیر کاز ایک دوسرے کے متضاد نہیں۔

بلکہ مضبوط معیشت، بہتر تعلیم، صحت، انسانی ترقی اور سیاسی استحکام خود کشمیر کے مقدمے کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔

شاہ غلام قادر ماضی میں کشمیر کے مسئلے پر سیاسی سرگرمیوں اور بیرون ملک کشمیری برادری سے رابطوں کے حوالے سے بھی فعال رہے ہیں۔ اگر وہ وزیر اعظم بنتے ہیں تو ان کے لیے یہ تجربہ ایک نئے کردار میں تبدیل کرنے کا موقع ہوگا۔

کیا شاہ غلام قادر وزیر اعظم بن سکتے ہیں؟

موجودہ سیاسی صورتحال میں شاہ غلام قادر کا نام وزارتِ عظمیٰ کے لیے مضبوط ترین امیدواروں میں شامل ہے، لیکن 16 اگست 2026 تک حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

مسلم لیگ ن کی قیادت کی مشاورت جاری ہے اور حکومت سازی کے لیے پارٹی قیادت کو مختلف عہدوں پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا۔ 

شاہ غلام قادر کے علاوہ چوہدری طارق فاروق، راجہ فاروق حیدر خان اور دیگر سینیئر رہنماؤں کے نام بھی سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث رہے ہیں۔

تاہم شاہ غلام قادر کے پاس پارٹی صدارت، اسمبلی کی اسپیکرشپ، اپوزیشن لیڈرشپ اور حالیہ انتخابی کامیابی کا مجموعہ موجود ہے۔

اسی لیے اگر مسلم لیگ ن کی قیادت تجربے، پارلیمانی گرفت اور پارٹی نظم کو ترجیح دیتی ہے تو ان کا کیس مضبوط دکھائی دیتا ہے۔

لیکن سیاست میں آخری فیصلہ اعلان سے پہلے کبھی حتمی نہیں ہوتا۔

اصل امتحان وزارتِ عظمیٰ نہیں، عوام کا اعتماد ہوگا

آزاد کشمیر میں نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا سوال یہ نہیں ہوگا کہ وزیراعظم کون بنتا ہے۔

اصل سوال یہ ہوگا کہ نئی حکومت عوام کے ساتھ تعلق کیسے بحال کرتی ہے؟

ایک ایسی ریاست جہاں حالیہ مہینوں میں احتجاج نے سیاسی نظام کو ہلا کر رکھ دیا، جہاں انتخابی عمل کو سکیورٹی مسائل کا سامنا رہا، جہاں اپوزیشن جماعت نے انتخابی عمل پر سوالات اٹھائے اور جہاں بجلی، آٹا، روزگار اور وسائل کی تقسیم جیسے مسائل عوامی گفتگو کا مرکز ہیں، وہاں محض حکومت بن جانا کامیابی نہیں۔

کامیابی تب ہوگی جب حکومت:

سڑکوں پر احتجاج کے بجائے پارلیمان کو مکالمے کا مرکز بنائے،
سیاسی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دے،
عوامی ریلیف کو ترجیح دے،
ترقیاتی منصوبوں کو سیاسی نعروں کے بجائے نتائج میں تبدیل کرے،
اور سب سے بڑھ کر عوام کا اعتماد واپس حاصل کرے۔

شاہ غلام قادر کے سامنے اگر وزارتِ عظمیٰ کا دروازہ کھلتا ہے تو ان کے لیے یہ ان کے طویل سیاسی سفر کا سب سے بڑا منصب ضرور ہوگا، لیکن شاید سب سے بڑا امتحان بھی۔

کیونکہ اب کشمیر کو صرف ایک تجربہ کار سیاست دان نہیں، بلکہ ایک ایسا حکمران درکار ہوگا جو احتجاج سے مکالمہ، سیاسی اختلاف سے مفاہمت اور ترقیاتی وعدوں سے عملی نتائج تک کا سفر طے کر سکے۔

اور آنے والے دن یہ فیصلہ کریں گے کہ 2026 کے انتخابات صرف ایک حکومت کی تبدیلی ثابت ہوتے ہیں یا آزاد کشمیر کی سیاست میں حکمرانی کے ایک نئے دور کا 

آغاز بھی کرتے ہیں۔


#AJKElections2026 #AzadKashmir #ShahGhulamQadir #NawazSharif #PMLN #AJKGovernment #AJKPrimeMinister #Muzaffarabad #NeelumValley #KashmirPolitics #JAAC #Kashmir #PoliticalAnalysis 

#آزادکشمیر #آزادکشمیرانتخابات2026 #شاہغلامقادر #نوازشریف #مسلم_لیگ_ن #آزادکشمیرحکومت