تحریر : سید عتیق الرحمان
آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے تیسرے مرحلے میں آج 10 اگست کو باغ ڈویژن میں پولنگ ہو رہی ہے، تاہم انتخابی سرگرمیوں کے پس منظر میں ایک سنگین بحران کے گہرے بادل بھی منڈلا رہے ہیں۔ ایک جانب انتخابی معرکہ جاری ہے اور اسلام آباد میں مسلم لیگ ن اپنی ابتدائی کامیابیوں پر جشن منا رہی ہے، تو دوسری جانب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) کی عوامی حقوق کی تحریک بدستور جاری ہے۔
گزشتہ روز جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 5 جون سے 9 اگست 2026 تک جاری رہنے والی اس تحریک کے دوران جاں بحق ہونے والے 83 عام شہریوں کی فہرست جاری کی۔ کمیٹی کے مطابق فورسز اہلکاروں کی ہلاکتیں اس فہرست کے علاوہ ہیں۔ راولاکوٹ میں دھرنا تاحال جاری ہے اور بظاہر احتجاجی قیادت اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں، جبکہ حکومت بھی اپنے موقف پر قائم ہے۔
کمیٹی کی کور کمیٹی کے مظفرآباد سے رکن شوکت نواز میر کی گرفتاری کے بعد سے ان کے بارے میں تاحال کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آ سکیں اور ایک ماہ گزرنے کے باوجود انہیں عدالت میں پیش نہ کیے جانے کے سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ دوسری جانب عمر نزیر کشمیری، خواجہ مہران اور سردار امان سمیت بعض احتجاجی رہنماؤں کے سروں کی قیمت مقرر کیے جانے کے باوجود وہ دھرنے میں عوام کے درمیان موجود ہیں، جبکہ ہزاروں افراد مسلسل احتجاج کا حصہ بن رہے ہیں۔
انہی غیر معمولی حالات میں آزاد کشمیر کے انتخابات کا شیڈول جاری کیا گیا۔ متعدد مرتبہ تبدیلیوں کے بعد اب انتخابات چار مراحل میں منعقد ہو رہے ہیں۔ ابتدائی دو مراحل میں مسلم لیگ ن اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے شکست کے بعد انتخابی عمل میں مبینہ دھاندلی کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ میرپور اور مظفرآباد ڈویژن کے بعد آج باغ ڈویژن میں پولنگ ہو رہی ہے، جبکہ چوتھے اور آخری مرحلے میں پونچھ ڈویژن میں انتخابی عمل مکمل ہوگا۔
تاہم آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال کا ایک تاریخی پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہاں ایک عمومی سیاسی تاثر یہ رہا ہے کہ آزاد کشمیر میں اکثر وہی جماعت اقتدار حاصل کرتی ہے جو اسلام آباد میں وفاقی حکومت میں برسراقتدار ہو۔ اس سے بھی زیادہ دلچسپ امر یہ ہے کہ ماضی میں آزاد کشمیر میں وفاق میں حکمران جماعت کی کامیابی کے بعد پاکستان کی مرکزی سیاست میں اس جماعت کو جلد ہی بڑے سیاسی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا۔
2021 میں پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر میں کامیابی حاصل کی تو اگلے ہی برس وفاق میں اس کی حکومت ختم ہو گئی۔ 2016 میں مسلم لیگ ن نے آزاد کشمیر میں حکومت بنائی تو 2017 میں میاں نواز شریف وزارتِ عظمیٰ سے نااہلی کے نتیجے میں باہر ہو گئے، جبکہ 2011 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی آزاد کشمیر میں کامیابی کے اگلے ہی برس سید یوسف رضا گیلانی کو وزارتِ عظمیٰ سے سبکدوش ہونا پڑا۔
اگر موجودہ انتخابات میں بھی مسلم لیگ ن کی کامیابی کا سلسلہ برقرار رہتا ہے تو یہ محض ایک انتخابی نتیجہ نہیں ہوگا بلکہ پاکستان کی مرکزی سیاست کے لیے بھی ایک دلچسپ سیاسی اشارہ تصور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اسے کسی حتمی سیاسی پیش گوئی کے بجائے تاریخ میں نظر آنے والے ایک دلچسپ اتفاق کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔
اس روایتی سیاسی کھیل کے پس پردہ اصل کہانی تاہم اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ تین، چار برس کے دوران اشرافیہ کی مراعات کے خاتمے، مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے خاتمے، ہسپتالوں کی بہتری، جدید مواصلاتی سہولیات اور دیگر عوامی مسائل سمیت 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ کے لیے متعدد احتجاج اور دھرنے دے چکی ہے۔ ان احتجاجی تحریکوں کے نتیجے میں 2024 میں سستی بجلی اور سستے آٹے کی فراہمی سمیت بعض مطالبات پر حکومت اور کمیٹی کے درمیان معاہدہ بھی ہوا تھا۔
رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ حکومت نے کیے گئے معاہدوں پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا، جس کے باعث انہوں نے 9 جون کو شٹر ڈاؤن ہڑتال اور مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ کی کال دے رکھی تھی۔ حکومت پاکستان کے ساتھ مئی کے آخر میں ہونے والے مذاکرات بھی کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکے، جس کے بعد ایکشن کمیٹی نے احتجاجی کال واپس لینے سے انکار کر دیا۔
حکومت کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس کا بھی ایکشن نے بائیکاٹ کیا، جبکہ 3 جون کو ہونے والی اس کانفرنس میں فورسز کے استعمال کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔
یوں تحریک 9 جون کے بجائے 5 جون ہی کو اس وقت شروع ہو گئی جب راولاکوٹ میں سردار عمر نزیر پر حملہ ہوا۔ اس واقعے میں وہ زخمی ہوئے جبکہ ان کے ساتھی شاہ زیب جاں بحق ہوگئے۔ اس کے بعد راولاکوٹ میں عوامی مزاحمت کی ایک ایسی لہر اٹھی جس پر قابو پانے کے لیے حکومت نے پاکستان سے رینجرز اور ایف سی طلب کی، جس کے نتیجے میں کشیدگی انتہائی خطرناک سطح تک پہنچ گئی۔
غیر جانب دارانہ اور تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو آزاد جموں و کشمیر کے عوام نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پاکستان کے ساتھ اپنے تعلق کے نتیجے میں امن، معاشی استحکام اور سماجی ترقی کے کئی مواقع حاصل کیے ہیں۔ وفاق کی جانب سے سبسڈیز، بنیادی اشیائے ضروریہ کی نسبتاً سستی فراہمی اور پاکستان کی فوج و سول اداروں میں کشمیریوں کی نمایاں نمائندگی اس باہمی تعلق کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
لیکن موجودہ بحران سے نکلنے کا راستہ طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ سیاسی مفاہمت میں ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر نظرثانی کرے، شوکت نواز میر سمیت تمام گرفتار افراد کو قانون کے مطابق عدالتوں کے سامنے پیش کرے اور احتجاجی رہنماؤں کے سروں پر انعام مقرر کرنے جیسے اقدامات واپس لے، تاکہ انہیں دوبارہ سیاسی اور جمہوری عمل کا حصہ بنایا جا سکے۔ مزید سختی کی صورت میں پیدا ہونے والی بے چینی کے اثرات صرف مظفرآباد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اسلام آباد بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔
دوسری جانب کمیٹی کی قیادت کو بھی اپنے مطالبات کے حصول کے ساتھ ساتھ مذاکرات اور سیاسی راستے کے لیے لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اگر احتجاجی رہنماؤں کے سروں پر انعامات برقرار رہیں اور ریاستی کارروائیاں جاری رہیں تو دھرنا اور لانگ مارچ واپس لینا ان کے لیے سیاسی طور پر انتہائی مشکل ہوگا۔ ایسی صورت میں احتجاجی تحریک مزید سخت اور غیر لچکدار رخ اختیار کر سکتی ہے۔
دھرنوں میں سامنے آنے والے انتہائی نعروں اور سیاسی اشتعال انگیزی کو بھی روکنا ضروری ہے۔ اگر عوامی حقوق کی یہ تحریک پرامن احتجاج سے نکل کر پرتشدد تصادم میں تبدیل ہو گئی تو سیاسی مذاکرات اور مفاہمت کے راستے مزید محدود ہو جائیں گے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت اور جیک دونوں طاقت، ضد اور انتقام کے بجائے سیاسی تدبر کا مظاہرہ کریں۔ حکومت ایک قدم پیچھے ہٹے، جیک بھی مذاکرات کے لیے راستہ کھولے اور دونوں فریق عوامی حقوق، قانون کی بالادستی اور خطے کے امن کو اپنی ترجیح بنائیں۔
کیونکہ آزاد کشمیر کو اس وقت کسی فاتح کی نہیں، ایک ایسے سیاسی حل کی ضرورت ہے جس میں حکومت بھی محفوظ رہے، عوام کے حقوق بھی اور خطے کا امن بھی۔
#آزادکشمیر #AJKElections2026 #JointActionCommittee #JKJAC #AzadKashmirCrisis #BaghElections #PublicRights #PakistanPolitics
