نیوز ڈیسک
اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے ایسے افراد پر گاڑیاں، جائیداد، شیئرز کی خریداری اور بڑی مالیت کی نقد رقم نکالنے پر پابندی عائد کرنے کی تجویز مسترد کر دی ہے جو اپنی ٹیکس گوشواروں میں ان خریداریوں کے لیے خاطر خواہ مالی وسائل ظاہر نہیں کر سکے۔ یہ تجویز وزارت خزانہ نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے موقع پر کابینہ کے سامنے پیش کی تھی، تاہم کابینہ نے دیگر ٹیکس اقدامات کی منظوری دیتے ہوئے اس شق کو مؤخر کر دیا۔
ذرائع کے مطابق یہ اقدام حکومت کی جانب سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے یکم جولائی 2026 سے ان پابندیوں کے نفاذ کے وعدے سے بھی انحراف تصور کیا جا رہا ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت ایسے افراد، جن کے ظاہر کردہ مالی وسائل ناکافی ہوں، انہیں 70 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی گاڑی، 10 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کی جائیداد خریدنے، 5 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے شیئرز میں سرمایہ کاری کرنے یا 10 کروڑ روپے سے زیادہ نقد رقم بینکوں سے نکالنے کی اجازت نہ دینے کی تجویز دی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق یہ پابندیاں انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 114C کے تحت متعارف کرائی گئی تھیں، تاہم ان پر عمل درآمد کے لیے وفاقی کابینہ کی منظوری ضروری ہے۔ اس سے قبل بھی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ان اقدامات کو نافذ کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن ڈیجیٹل نظام مکمل نہ ہونے کے باعث ان پر عمل درآمد مؤخر کر دیا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ کی جانب سے تجویز مسترد کیے جانے کے بعد حکومت اس معاملے پر نئی سمری دوبارہ منظوری کے لیے پیش کر سکتی ہے۔ حکام کے مطابق ایف بی آر نے جائیداد کی خرید و فروخت کی نگرانی کے لیے آن لائن نظام تیار کر لیا ہے، تاہم شیئرز میں سرمایہ کاری اور بعض دیگر مالی لین دین کی مؤثر نگرانی کے لیے مزید تکنیکی کام درکار ہے
ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور غیر دستاویزی دولت کے خلاف حکومتی اقدامات پر سوالات اٹھ سکتے ہیں، جبکہ حکومت کو آئی ایم ایف پروگرام کے تناظر میں بھی اس معاملے پر وضاحت کرنا پڑ سکتی ہے۔
